BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 September, 2005, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نازیوں کے’کھوجی‘ کا انتقال
سیمن وی ایسنتھل
ان کی موت کی خبر امریکہ میں سیمن وی ایسنتھل سینٹرسے جاری کی گئی
نازیوں کے تعاقب کے لیے شہرت پانے والے جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کےشاہد سائمن ویزنتھل آسٹریا کےدارالحکومت ویانا میں چھیانوے سال کی عمرمیں انتقال کرگئے ہیں۔

ان کی موت کی خبر امریکہ میں سائمن ویزنتھل سینٹرسے جاری کی گئی۔

انہیں اس بات کا سہرا جاتا ہے کہ انہوں نےجنگ عظیم دوئم کے ایک ہزار سے زائد نازی مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا۔ ان مجرموں میں ٹری بلینکا اور سوبیبر ڈیتھ کیمپ کے کمانڈنٹ فرنز سٹینگل بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق گروپ کے بانی ریبی مارون ہائر نے بتایا کہ ان کا انتقال رات کو کسی وقت نیند کے دوران ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جب 1945 کی جنگ ختم ہوئی تو دنیا اسے بھول گئی لیکن سائمن نےاسے یاد رکھا اور اسے کبھی فراموش نہیں کر سکے۔

ہولی کوسٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے سربراہ اور جنگ کے سابق جرائم انوسٹیگیٹر لارڈ جینر نے انہیں اپنا ہیرو تسلیم کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک بہادر، شاندار اور یک سو ذہن کی مالک شخصیت تھے۔ جہنوں نے بذات خود جنگی کیمپوں میں وقت گزارا اور نازیوں
کو عدالت کے کٹہرے تک لانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کیا۔

ان کا بچپن یوکرائن میں گذرا۔ انیس سو پینتالیس میں انہیں امریکی دستوں نے ماؤتھوسن ڈیتھ کیمپ سے رہا کروایا۔

بعد ازاں جنگی مجرموں کے لیے انہوں نے ویانا میں جیوش ڈاکیومینٹیشن سینٹر
قائم کیا۔

گسٹاپو چیف ہینرچ مولر اور ڈاکٹر جوزف مینگیلی کی گرفتاری کو محفوظ بنانےمیں ناکامی ان کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ایک تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد