نازیوں کے’کھوجی‘ کا انتقال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نازیوں کے تعاقب کے لیے شہرت پانے والے جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کےشاہد سائمن ویزنتھل آسٹریا کےدارالحکومت ویانا میں چھیانوے سال کی عمرمیں انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی موت کی خبر امریکہ میں سائمن ویزنتھل سینٹرسے جاری کی گئی۔ انہیں اس بات کا سہرا جاتا ہے کہ انہوں نےجنگ عظیم دوئم کے ایک ہزار سے زائد نازی مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا۔ ان مجرموں میں ٹری بلینکا اور سوبیبر ڈیتھ کیمپ کے کمانڈنٹ فرنز سٹینگل بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق گروپ کے بانی ریبی مارون ہائر نے بتایا کہ ان کا انتقال رات کو کسی وقت نیند کے دوران ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب 1945 کی جنگ ختم ہوئی تو دنیا اسے بھول گئی لیکن سائمن نےاسے یاد رکھا اور اسے کبھی فراموش نہیں کر سکے۔ ہولی کوسٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے سربراہ اور جنگ کے سابق جرائم انوسٹیگیٹر لارڈ جینر نے انہیں اپنا ہیرو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بہادر، شاندار اور یک سو ذہن کی مالک شخصیت تھے۔ جہنوں نے بذات خود جنگی کیمپوں میں وقت گزارا اور نازیوں ان کا بچپن یوکرائن میں گذرا۔ انیس سو پینتالیس میں انہیں امریکی دستوں نے ماؤتھوسن ڈیتھ کیمپ سے رہا کروایا۔ بعد ازاں جنگی مجرموں کے لیے انہوں نے ویانا میں جیوش ڈاکیومینٹیشن سینٹر گسٹاپو چیف ہینرچ مولر اور ڈاکٹر جوزف مینگیلی کی گرفتاری کو محفوظ بنانےمیں ناکامی ان کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ایک تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||