BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 May, 2006, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی فلم نئی صدی کی دہلیز پر

ثمینہ پیرزادہ
ثمینہ پیر زادہ نے ’انتہا‘ کو ایک متنازعہ فلم میں تبدیل کرنے کی سرتوڑ کوشش کی
بیسویں صدی کو عالمی سطح پر سینما کی صدی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اُنیسویں صدی کے ابتدائی تجربات کے بعد 1902 اور 1903 میں بننے والی کچھ امریکی فلموں کو جدید معانی میں اولین فلمیں تصوّر کیا جاتا ہے۔ اِن کے دس ہی برس بعد بمبئی میں ہندوستان کی پہلی فلم تیار ہوگئی اور مزید دس برس بعد لاہور کے دو نوجوان آرٹسٹ (ایم اسماعیل اور عبدالرشید کاردار) بھی فلم بنانے کے لئے ایک مووی کیمرہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور یوں 1924 میں لاہور میں تیار شدہ پہلی فلم منظرِ عام پر آئی، نام تھا: Daughters of Today

اس کی مزید تفصیل آپکو زیرِنظر سلسلے کے ابتدائی مضامین میں مِل سکتی ہے۔

links

لاہور کی فلمی صنعت نے بیسویں صدی کے دوران بہت سے نشیب و فراز دیکھے۔ تقسیم سے پہلے کےبرسوں میں بمبئی اور کلکتے کے بعد لاہور ہی اہم ترین فلمی مرکز تھا۔ یہاں کے پروردہ اداکاروں، ہدایتکاروں، موسیقاروں اور گیت نگاروں نے بمبئی اور کلکتے میں بھی بہت نام کمایا۔

تقسیمِ ہند کے وقت لاہور کی فلمی صنعت سے وابستہ ہندو اور سکھ سرحد پار چلے گئے لیکن اس ابتدائی جھٹکے کے بعد انڈسٹری جلد ہی سنبھل گئی اور سن پچاس کے عشرے میں اپنے پیروں پہ کھڑی ہو گئی۔

’جال ایجی ٹیشن‘ کے بعد نئی بھارتی فلموں کی درامد تو بند ہوگئی لیکن پرانی فلمیں 1965 تک چلتی رہیں تاوقتیکہ پاک بھارت جنگ کے باعث ہندوستانی فلموں کی درامد پر مکمل پابندی لگ گئی۔

Guns and Roses
 یہ فلم دراصل تازہ ذہنوں کی ایک ایسی کاوش تھی جِسے خوشنما مناظر اور دلکش موسیقی کے ذریعے بیک وقت جنتِ نگاہ اور فردوسِ گوش بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن قبولیت کا معیار فلمساز کی سوچ سے بالکل مختلف بھی ہوسکتا ہے۔

پھیرے، چن وے، دوپٹہ، وعدہ، سات لاکھ، کرتار سنگھ، نیند اور کوئل ابتدائی دور کی کامیاب فلمیں تھیں۔

1960 کے عشرے میں پاکستانی انڈسٹری نے شہید، موسیقار، گھونگھٹ، باجی، خاموش رہو، فرنگی، لاکھوں میں ایک، صاعقہ، دیا اور طوفان اور زرقا جیسے شاہکار پیش کئے۔

سن 70 اور 80 کی دہائیوں میں پنجابی فلم کو عروج حاصل ہوا جو کہ جنوری 1996 میں سلطان راہی کی موت تک جاری رہا۔ 99، 98، 1997 کے برسوں میں پلڑا اُردو فلموں کے حق میں جھُک گیا۔

اُردو فلموں کی واپسی کے اِسی دَور میں ایک انوکھی فلم کا اعلان ہوا نام تھا: Guns and Roses ۔اس فلم کے خالق دو نوجوان ذہن تھے، یعنی مصنّف و ہدایتکار ریاض شاہد مرحوم کا بیٹا شان اور جوان سال ڈیزائنر اور آرٹسٹ تنویر فاطمہ رحمان۔

فلم کا اعلان اگرچہ 1996 میں ہوا تھا لیکن اس برس یہ فلم مکمل نہ ہوسکی۔ 1997 میں فلم کا خاصہ حصّہ مکمل ہوگیا لیکن پھر بھی کچھ کام باقی رہ گیا۔ 1998 میں ہر کسی کو امید تھی کہ اس بار بلِّی تھیلے سے باہر آجائے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ منتظر لوگ اب مایوس ہوگئے اور فلم کے بارے میں طرح طرح کی چہ منگوئیاں ہونے لگیں۔

صائمہ، شان
شان کوفلم سازوں نے ایک جنگجو ہیرو تک محدود کر کے رکھ دیا

1999 میں فلم تو ریلیز ہوگئی لیکن تین برسوں تک انتظار کرنے والے تماشائیوں کا پیمانہء صبر اتنا لبریز ہوگیا تھا کہ بہت سے لوگوں نے فلم دیکھنا گوارہ ہی نہ کیا۔

جنھوں نے دیکھی اُن کی رائے بھی بٹی ہوئی تھی: کچھ کا کہنا تھا کہ یہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک انتہائی خوبصورت احتجاج ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے عکس و آہنگ کا ایک تجریدی مگردلکش امتزاج قرار دیا اور کچھ نے کہا کہ فلم کے ٹُکڑے غلطی سے آگے پیچھے جُڑ گئے ہیں اور اِس غلط سلط ایڈیٹنگ کے باعث فلم کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔

یہ فلم دراصل تازہ ذہنوں کی ایک ایسی کاوش تھی جِسے خوشنما مناظر اور دلکش موسیقی کے ذریعے بیک وقت جنتِ نگاہ اور فردوسِ گوش بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن قبولیت کا معیار فلمساز کی سوچ سے بالکل مختلف بھی ہوسکتا ہے اور ایسے میں فلم میکر کے پاس صرف ایک ہی بہانہ رہ جاتا ہے کہ اس نے وہ فلم وقت سے پہلے بنا دی ہے۔ گنز اینڈ روزِز بنانے والے بھی یہی کہتے ہیں اور اُنھی دِنوں ریلیز ہونے والی فلم ’انتہا‘ کی فلم ساز و ہدایتکار ثمینہ پیر زادہ بھی یہی کہتی ہیں کہ اُن کی فلم نہ تو پوری طرح عوام کی سمجھ میں آئی اور نہ ہی سینسر بورڈ کی سمجھ میں۔

فلم انتہا کی کہانی کالج کے طلبہ کے گرد گھومتی ہے جِن کی محبتیں، شادیاں، گھر بسانے اور گھر اُجاڑنے کے واقعات کئی نفسیاتی الجھنوں کو جنم دیتے ہیں۔ سینسر شدہ مناظر کا سکینڈل ایک بڑی خبر کی شکل اختیار کر گیا تھا اور فلم ساز ثمینہ پیر زادہ نے آزادئ اظہار اور آزادئ نسواں کی دُہائی دے کر پاکستان میں اور بیرونِ ملک بھی کئی اخباری کانفرنسیں کی تھیں، لیکن یہ تمام کاوشیں فلم کا معیار بہتر نہ کر سکیں البتہ اسکی پبلسٹی کا ذریعہ ضرور ثابت ہوئیں۔

پاکستانی فلم کا لشکر جب منزلیں مارتا ہوا اکیسویں صدی کی دہلیز پر پہنچا تو اُس کے ہاتھوں میں نئی اور پرانی فتوحات کے کئی جھنڈے لہرا رہے تھے۔

صائمہ کی چوڑیاں
 ’چوڑیاں‘ اِس لحاظ سے تاریخ ساز فلم ہے کہ مستانہ ماہی(1971) کے بعد پہلی بار کسی نے پنجابی فلموں کے گھِسے پٹے بلند بانگ انداز سے باہر آکر ہلکے پھلکے، فِطری انداز میں ایک پنجابی کہانی پیش کی تھی۔

صدی کے آخری برسوں میں سب سے زیادہ معرکے سر کرنے کا اعزاز یقیناً سید نور کے سر تھا جنھوں نے ایک کے بعد ایک ، کئی سُپر ہٹ فلمیں پیش کیں۔ سید نور نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1970 میں ڈائریکٹر سید ایس سلیمان کے ساتھ ایک معاون کے طور پر کیا تھا۔ پانچ چھ برس کی معاونت کے بعد سید نور نے محسوس کیا کہ اچھی فلم کا راز ایک اچھے سکرین پلے میں پوشیدہ ہے چنانچہ 1976 میں سید نور نے خود ایک فلم تحریر کی جسکا نام تھا ’سوسائٹی گرل‘۔ اِس میں سنگیتا، کویتا، غلام محی الدین نشو، بہار اور قوی نے اداکاری کی تھی اور اسکی ڈائریکٹر خود سنگیتا تھیں۔ اس فلم کی کامیابی نے ایک فلمی مصنّف کے طور پر سید نور کو مستحکم کردیا اور گزشتہ 30 برس کے دوران اس استحکام میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔

1993 میں سید نور نے اپنی لکھی ہوئی فلم ’قسم‘ خود ڈائریکٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس میں ندیم کے سوا تمام اداکار یا تو بالکل نئے تھے یا محض ٹیلی ویژن کا کچھ تجربہ رکھتے تھے۔

صائمہ
صائمہ کے ’مہندی والے ہتھ‘ جو سید نور کی کامیابی کی ضمانت بن گئے

فلمی سکرین پر اتنے بہت سے تازہ چہروں کی موجودگی بذاتِ خود ایک دلکش امر تھا لیکن تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی کہانی دیکھنے والے کو ہمہ وقت چوکس رکھتی تھی۔ آج سے تیرہ برس پہلے تیار ہونے والے اس ’سوشل تھرِلّر‘ میں ندیم کے ساتھ کنول، سلیم شیخ، ارم حسن، رستم، ندا ممتاز، اورنگ زیب لغاری اور خالد بٹ نے کام کیا تھا۔

بیسویں صدی کے آخری پانچ برس سیّد نور کے لئے انتہائی مبارک ثابت ہوئے جب اوپر تلے اُن کی ہدایتکاری میں درجنوں فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں جیوا، سرگم، چور مچائے شور، ہوائیں، گھونگھٹ، راجو بن گیا جنٹلمین، عقابوں کا نشیمن، سنگم، راجہ پاکستانی، دیوانے تیرے پیار کے، محافظ، زیور، دیواریں، زور، دوپٹہ جل رہا ہے، چوڑیاں، ڈاکو رانی، انگارے، جنگل کوئین، بِلّی، مہندی والے ہتھ، لاکھوں میں ایک اور بیٹی وغیرہ شامل ہیں۔

اِن میں ’چوڑیاں‘ اِس لحاظ سے تاریخ ساز فلم ہے کہ مستانہ ماہی(1971) کے بعد پہلی بار کسی نے پنجابی فلموں کے گھِسے پٹے بلند بانگ انداز سے باہر آکر ہلکے پھلکے، فِطری انداز میں ایک پنجابی کہانی پیش کی تھی۔

بیسویں صدی کے آخری دو برس جہاں مصنّف و ہدایتکار سید نور کے فلمی کیریئر کا سنہری دور تھا وہیں اداکارہ صائمہ کے لیئے بھی انتہائی مبارک زمانہ تھا کیونکہ اِن دو برسوں کے دوران صائمہ کی 35 فلمیں ریلیز ہوئیں جو کسی پاکستانی اداکارہ کےلیئے ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

کویتاایکشن فلموں کا دور
لالی وڈ میں سن 80 کا دور ایکشن فلموں کے نام رہا
سلطان راہی فلم کا ’دورِ سلطانی‘
پندرہ سال فلمی افق پر سلطان راہی کا راج رہا
ہیرو کا زوال
وحید مراد کی لالی وڈ اور دنیا سے رخصتی
 بھٹوفلمیں اور نوجوان بھٹو
بھٹو شوٹنگ دیکھنے بمبئی جایا کرتے تھے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد