مدھیہ پردیش: عورت ستی ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کی پولیس نے ایک عورت کی خودکشی سے متعلق تفتیش شروع کر دی ہے جس نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کی چتا میں کود کر جان دے دی۔ یہ واقعہ ریاستی دارالحکومت بھوپال سے ڈھائی سو کلومیٹر دور واقع ساگر ضلع میں پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ اس عورت نے اپنی مرضی سے خود کو آگ کی نذر کیا تھا۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں خود کوشوہر کی ’چتا‘ میں آگ کی نذر کرنے کی رسم یعنی ’ستی ‘ غیر قانونی ہے۔ ضلع ساگر کی پولیس کے اعلیٰ اہلکار شاہد ابصر نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ پیر کے روز تلسی پور گاؤں میں پیش آیا جب جانکی بائی نامی ایک خاتون نے اپنے شوہر سے بے انتہا محبت میں خود کو اس وقت آگ کی نذر کر دیا جب اس کے شوہر کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔ شاہد ابصر کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے لئے اس عورت کو کسی نے اکسایا نہیں تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لئے پولیس نے تفتیشی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ پریم نارائن نامی شخص کی موت واقع ہو نے کے بعد اس کے رشتے داروں نے پیر کے روز اس کی آخری رسومات ادا کر دی تھیں اور پھر سب اپنے گھر واپس چلے گئے تھے۔ تاہم پریم نارائن کی بیوی جانکی نے کہا کہ وہ کسی کام سے باہر جا رہی ہے لیکن اس کے بعد وہ واپس نہیں لوٹی۔ بعد میں اس کی لاش پرمی نارائن کی چتا میں پائی گئی۔ اگرچہ ستی کی رسم غیر قانونی ہے لیکن اس طرح کے اکّا دکّا واقعات ہوتے رہتےہیں۔ ریاست مدھیہ پردیش میں چار برس قبل بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ خواتین کے جقوق کے لیئے کام کرنے والی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اکثر ایسے معاملے میں عورتوں کو اکسایا جاتا ہے کیوں کہ اب بھی ملک میں بعض برادریوں میں ستی کا رواج جاری ہے اور اس کا ثبوت وہ ستی مندر ہیں جو ایسی عورتوں کی یاد میں تعمیر کیئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’نچلی ذات کی خواتین پر ظلم‘24 September, 2005 | انڈیا ہندو خواتین کو حق وراثت 17 August, 2005 | انڈیا بھارت: عورت کو ہل جوتنے کی سزا 14 September, 2005 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا بھارت میں عورتوں کی الگ مسجد19 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||