بھارت میں عورتوں کی الگ مسجد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی بھارت کے ایک چھوٹے سے قصبے میں مسلمان عورتوں نے اپنی اپنی بزرگوں کی ایک جماعت بنائی ہے جسے عورتوں کی ایک الگ مسجد کی جانب پہلا قدم قرار دیا جارہا ہے۔ اس علاقے میں عام طور پر ہر کام میں مردوں کو بالا دستی حاصل ہے لیکن اس تنظیم میں تمام ذمہ داریاں عورتوں ہی کے ہاتھ میں ہوں گی۔ مردوں کی جماعت مسجد ہی میں بیٹھ کر پڈھوکوٹئی کی مسلمان برادری کے تمام مسائل نمٹاتی ہے کیکن اباس جماعت کو ایک بڑی آزمائش کا سامنا ہے اور اسے طے کرنا ہو گا کہ وہ تامل ناڈو کے اس چھوٹے سے قصبے میں اندر ہی اندر آنے کی تیاری کرتے ہوئے ایک انقلاب سے کیسے نمٹے گی۔ اس قصبے میں سرخ اینٹوں سے بنا ہوا ایک دو منزلہ مکان ہے، جس میں جمع ہونے والی عورتیں اس بات پر پر غور کر رہی ہیں کہ بھارت میں تعمیر کی جانے والی عورتوں کی اس پہلی مسجد کے منصوبے کو عملی شکل کیسے دی جائے۔ ویمن ڈیویلپمنٹ کی داؤد صفیہ اس عورتوں کی ایک الگ مسجد تحریک کی قیادت کر رہی ہیں۔ صفیہ چالیس کی ہونے کو ہیں اور اس گھر میں درجن بھر عورتوں کے درمیان آلتی پالتی مارے بیٹھی اسی مسئلہ پر بحث کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد صرف عبادت ہی کے لیے نہیں برادری کی عورتوں کو درپیش مسائل حل کرنے کی بھی جگہ ہو گی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مسلمان عورت کے لیے باورچی خانے اور زچہ خانے کے سوا کوئی جگہ نہیں ہے اور اگر وہ اپنے شوہر کے بارے میں بھی کوئی مسئلہ جماعت کے سامنے اٹھاتی ہے تو اسے جماعت کے سامنے پیش ہونے کا موقع تک نہیں دیا جاتا‘۔
ان کا کہنا ہے ’جماعت اس عورت کا موقف سننے کے لیے اس کے شوہر کو بلاتی ہے جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسے بلایا جائے یا اس کو نہیں تو اس کے والد یا بھائی کو اس کی نمائندگی کرنے کے لیے کہا جائے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا اور اس کی بات سنے بغیر ہی فیصلہ کردیا جاتا ہے‘۔ عورتوں کی مجوزہ مسجد کے لیے جگہ منتخب کر لی گئی ہے لیکن صفیہ نے دور ہی سے اس جگہ کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی ہم اس بارے میں کسی کو کچھ بتا نہیں رہے کہیں ایسا نہ ہو کہ مخالفین اس جگہ کو نشانہ نہ بنا لیں۔ ’اور ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں ہے‘۔ تامل ناڈو میں مسلمانوں کی ایک سماجی سیاسی تنظیم کے صدر محمد ہدایت اللہ ظواہراللہ اس بارے کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ عورتوں کی اس تنظیم کو کوئی ضرورت نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا ’اس وقت جماعت کے تمام عہدیدار اور ارکان مرد ہی ہیں اور یہ ایک روایت ہے اور ظاہر ہے ایک عرصے سے چلی آ رہی اس روایت کو راتوں رات تبدیل نہیں کیا جا سکتا‘۔ مرکز برائے اسلامی تحقیق و رہنمائی کے ڈائریکٹر اینس الرحمان اعظمی اس بارے میں کہتے ہیں ’ عورتوں کی جانب سے الگ مسجد کا مطالبہ غیر اسلامی ہے۔ اسلام میں عورتوں کو اپنی الگ مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عورتوں کو الگ مسجد کی اجازت دے دی جائے تو اس سے بہت سارے سوالات پیدا ہوں گے، جن میں پہلا تو یہی ہے کہ اس مسجد میں امامت کون کرے گا؟ اور اگر امامت عورت کرے گی تو پھر پاکی و ناپاکی کا سوال پیدا ہو گااور یہ کہ ایام کے دنوں امامت کون کرائے گا؟‘۔
داؤد صفیہ کا کہنا ہے کہ جماعت کے بزرگوں نے خواتین کے لیے رکھی جانے والی دونششتوں کو بھی نظر انداز کیا ہے۔ ’اور اب عورتوں کی تنظیم میں تمام عہدیدار عورتیں ہوں گی لیکن مسجد میں مردوں کے آنے پر کوئی مدد نہیں ہو گی، لیکن مسجد عورتوں کی ہو گی اور ہم اس پر اس بورڈ بھی لگائیں گے‘۔ اس سلسلے میں عورتوں نے ایک ہزار ڈالر جمع کر لیے ہیں اور انہیں مسجد کی تعمیر کے لیے نو ہزار ڈالر لے لگ بھگ رقم درکار ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||