بہار کی فٹبال دیوانی لڑکیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے ایک گاؤں برونی میں لڑکیوں کے ہیرو کوئی اور نہیں رونالڈو، رونالڈینو، ککا اور ڈیوڈ بیکہم ہیں۔ برونی کی لڑکیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فٹبال ان کی زندگی ہے۔ آجکل تو وہ رات کو دیر تک جاگ کر عالمی کپ کے مقابلے دیکھتی ہیں۔ موسم کماری کہتی ہیں کہ عالمی مقابلے چار سال میں ایک بار ہوتے ہیں ’ہم انہیں دیکھنے کا موقع کیسے گنوا سکتی ہیں؟‘ کماری جرمنی کی حمایتی ہیں۔ برونی کی لڑکیاں نہ صرف فٹبال دیکھنے کی شوقین ہیں بلکہ اسے اتنے ہی جذبے سے کھیلتی بھی ہیں۔ گاؤں کی تین لڑکیاں قومی ٹیم میں شامل ہیں جبکہ سات ریاست کی ٹیم میں۔ ایک ایسے ضلع میں جہاں لاقانونیت کا راج ہے اور صرف ایک گاؤں میں سیاسی مخالفت سو لوگوں کے قتل کا باعث بن چکی ہے ان لڑکیوں کی کامیابی پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔
سترہ سالہ انو کماری، جن کے والد چھوٹے کسان ہیں سات بار ہندوستان کی سترہ سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی ٹیم کی طرف سے کھیل چکی ہیں اور حال ہی میں انہوں نے قومی ٹیم کے ساتھ ملیشیا اور چین کا بھی دورہ کیا ہے۔ برونی کے راجکمار سنگھ نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کی دو بیٹیاں قومی سطح پر فٹبال کھیلتی ہیں۔ برونی میں فٹبال کے کوچ سنجیو کمار سنگھ نے کہا وہاں کی لڑکیاں لڑکوں کی نسبت زیادہ منظم اور مستقل مزاج ہیں جبکہ لڑکوں میں اس چیز کی کمی ہے۔ برونی والوں نے اپنی لڑکیوں کی کامیابی سے متاثر ہو کر فیصلہ کیا ہے گاؤں کا نام تبدیل کر کے ’برونی کھیل گاؤں‘ رکھ دیا جائے۔ | اسی بارے میں گوا میں فٹبال کا جنون03 July, 2004 | انڈیا فٹبال کا عالمی بخار اور حیدرآباد کا دکھ10 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||