گوا میں فٹبال کا جنون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فٹبال کے یورو 2004 ٹورنامنٹ کے فائنل میں پرتگال اور یونان مدِمقابل آنے والے ہیں اور اس موقع پر بھارت کی مغربی ساحلی ریاست گوا میں لوگوں میں فٹبال کے شوق میں انتہائی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گوا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ فائنل کے دوران وہ اپنے سابق نوآبادیاتی حکمراں کی حمایت کریں گے۔ گوا کی ریاستی فٹبال ٹیم کے سابق گول کیپر اور سابق کپتان براہمانند شنکواکر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اور میرے بھائی یہ فائنل میچ دیکھیں گے اور اس دوران ٹی وی کے پہلو میں پرتگال کا جھنڈا بھی رکھا جائے گا۔‘ براہمانند شنکواکر نے کہا کہ ’میرے خیال میں گوا کی اسی فیصد آبادی کی ہمدردیاں پرتگال کی فٹبال ٹیم کے ساتھ ہیں۔‘
تاہم گوا میں کاروبار کرنے والے نوئیل لیما لتاؤ کہتے ہیں کہ ’سو فیصد لوگ پرتگال کی ٹیم کے ساتھ ہیں اور یونانی ٹیم کے ساتھ کسی کو ہمدردی نہیں ہے۔‘ گوا میں کھیلوں کے مقامی صحافی اینتھونی مارکس کا کہنا ہے کہ کوئی شخص بھی پرتگال کی فٹبال ٹیم کے خلاف نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گوا میں فٹبال کا آغاز بظاہر پرتگالیوں ہی نے کیا تھا اور گوا فٹبال ایسوسی ایشن بھی انہوں نے تشکیل دی تھی۔‘ گوا پر انیس سو ساٹھ کے عشرے تک تقریباً چار سو برس سے زآئد عرصے تک پرتگالیوں کی حکومت رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فادر ولیم رابرٹ لیونز نے گوا میں فٹبال کا کھیل اٹھارہ سو اسی کی دہائی میں متعارف کرایا تھا جب وہ علاج کے سلسلے میں گوا آئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||