شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 | | | ’فوج شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے مامور ہے‘ |
کشمیر میں فوج کم نہيں ہوگي بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں تعینات فوج میں فی الحال کمی نہیں کی جائےگی۔ منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ فوج لوگوں کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئي ہے اور اگر وہاں دہشت گردی میں کمی آتی ہے تو حکومت فوج کی تعداد کم کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہماری فوج کوئی قابض فوج نہیں ہے۔ وہ وہاں قانون کی احترام کرنے والے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے مامور ہے‘۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں میر واعظ عمر فاروق نے کشمیر میں کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان نے کنٹرول لائن کے دونوں جانب فوجیں کم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ فضا میں پراسرار آگ ہندوستان میں شہری ہوا بازی کا محکمہ ان اطلاعات کے بارے میں تفتیش کر رہا ہے جن کے مطابق گزشتہ سنیچر کی رات کئی پائلٹوں نے فضا میں آگ کا ایک پراسرار گولہ دیکھا۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی پروازوں کے کم از کم دس پائلٹوں نے رپورٹ کی ہے کہ انہوں نےگجرات کی فضا میں پونے دو بجے رات کو نارنجی رنگ کا آگ کا گولہ دیکھا۔ بعض پائلٹوں نے تو اسے شہاب ثاقب کی طرح بتایا۔ حکام نے سب سے پہلے تو یہ تحقیق کی کہ کسی ہوائی جہاز کا کوئی حادثہ تو نہیں ہوا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ تاہم پاکستان نے اسی اثناء میں میزائل تجربے کی اطلاع بھارتی حکام کو دی تھی لیکن اس کا صحیح وقت نہیں بتایا تھا اور اب اس حوالے سے تفصیلات بھی معلوم کی جارہی ہیں۔ غیر ملکی شدت پسند بھارتی جیلوں میں
 | | | قیدیوں میں پاکستان، افغانستان، برما، سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے شہری بھی شامل ہیں | حکام کے مطابق ہندوستان کی جیلوں میں قید افراد میں چونتیس فیصد شدت پسند ایسے ہیں جو اپنی سزا کی مدت کاٹنے کے باوجود آزاد نہیں ہو سکے ہیں۔ان میں ستائیس فیصد قیدی پاکستان کے ہیں جن کی وطن واپسی کی اب امید پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان نے قیدیوں کی رہائی کے لیے ججوں کا ایک مشترکہ پینل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ عمل شروع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ تیس ایسے عام قیدی بھی ہیں جو نوکریوں کی تلاش یا کنٹرول لائن پر بھٹک کر ہندوستان آ گئے۔ ان ميں پاکستان، افغانستان، برما، سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے شہری بھی شامل ہیں۔ یہ سبھی اپنی سزا کی مدت کاٹ چکے ہیں لیکن ان ملکوں کے سفارت خانوں کی عدم دلچسپی سے ان کی رہائی ابھی تک عمل میں نہیں آ سکی ہے۔ٹریفک کے قانون سخت
 | | | معمولی جرمانے کی رقم بھی سو روپے سے بڑھا کر پانچ سو روپے کرنےکی تجویز ہے | پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایک ترمیمی بل پیش کیا جارہا ہے جس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانے اور سزا کو سخت بنایا جائے گا۔اس بل کے تحت شراب پی کر موٹر گاڑی چلانے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر موقع پر ہی ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے کا انتظام ہو گا۔ پولیس اب خلاف ورزی کی نوعیت کے لحاظ سے تین مہینے تک کی مدت کے لیے لائسنس معطل کرنے کی مجاز ہوگی۔ پراپرٹی کے نقصان کی صورت میں ڈرائیور پر پانچ ہزار روپے تک کا جرمانہ کیا جا سکے گا جبکہ معمولی خلاف ورزیوں کے جرمانے کی رقم بھی سو روپے سے بڑھا کر پانچ سو روپے کرنےکی تجویز ہے۔فون ٹیپنگ اب پہلے سے مشکل نئے ٹیلی گراف ضابطے کے تحت ملک میں فون ٹیپنگ کے عمل کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔ ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اب ایسے دو افسران مقرر کرنے ہوں گے جو یہ دیکھیں گے کہ مختلف ایجنسیوں کی طرف سے کی گی فون ٹیپنگ کی درخواست صحیح ہے یا نہیں۔ کسی کا فون ٹیپ کرنے کے لیے مرکزی یا ریاستی داخلہ سیکرٹری کی تحریری اجازت لازمی ہو گی جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ہر پندرہ دن بعد ٹیپنگ کے حکم کی تصدیق کرنا ضروری ہوگا۔ فون ٹیپنگ کے ضابطے میں سختی گزشتہ مہینوں میں بعض سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کے ان الزامات کے بعد کی گئي ہے کہ ان کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں۔ |