BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں برفباری، زندگی مفلوج

کشمیر میں برفباری
وادی میں حکومت نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں غیر متوقع طور پر بھاری برفباری سے زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔ کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ پر واقع جواہر ٹنل کی برف کی وجہ سے بندش کے نتیجے میں وادی باقی دنیا سے کٹ کر رہ گئی ہے۔

مختلف حادثات میں، مٹی کے تودے، مکان اور درخت گرنے کے نتیجے میں ایک لڑکی سمیت 6 افراد ہلاک جبکہ سی آرپی ایف کی ایک گاڑی تباہ اور 4 اہلکار زخمی ہوئے۔ اس دوران جموں میں 9 سالہ بچی، ایک کمسن بچہ اور مزید دو افراد شدید سردی کے سبب لقمۂ اجل بن گئے۔ ادھر پلوامہ ، اننت ناگ ،بانڈی پورہ، سرینگر ،گاندربل اور کنگن سمیت دیگر کئی علاقوں میں قریب 200 رہائشی مکان گر گئے ہیں۔

وادی میں حکومت نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ایک ہفتے کی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے یکم مارچ کو حسبِ معمول ڈھائی ماہ کی سرمائی تعطیلات کے بعد کھُل گئے تھے۔

وادی کے اضلاع کے درمیان ٹریفک نظام بری طرح سے متاثر ہے جبکہ ہوائی اڈے کی رن وے پر برف جمع رہنے کی وجہ سے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں ہیں۔

اس دوران انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کا نظام بھی بے حد متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں برفباری سے جموں ہائی وے پر چٹانیں کھسکنے اور میدانی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔

کشمیر میں برفباری
ضروری چیزوں کی قلت سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے

حکومت نے ایک سینئر وزیر محمد دلاور میر کو صورتحال سے نمٹنے والے خصوصی سیل کا انچارج بنا دیا ہے۔

دلاور میر نے جموں سے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’ہم تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور سارے متعلقہ محکمہ جات کو ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے‘۔

برفباری کی وجہ سے پوری وادی میں ضروری چیزوں کی قلت اور ٹریفک نظام کی ابتری سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔

تاخیر سے ہونے والی اس برفباری کے بعد جب منگل کی دوپہر کو مطلع صاف ہوا تو کھلکھلاتی دھوپ میں لوگوں کو جھومتے ہوئے دیکھا گیا ۔کشمیر کی ثقافت کا خوبصورت حصہ ’شینہ جنگ‘ یعنی برف کے گولوں سے لڑنا ایسا نظارہ تھا جس میں لوگ وہ مصائب پل بھر کے لیے بھول گئے جو یہ برفباری اپنے ساتھ لائی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد