 | | | کشمیر پر ایما نِکلسن کی تیار کردہ اس رپورٹ کی حمایت میں 522 ووٹ ڈالے گئے |
یورپیئن پارلیمنٹ نے ایک ایسی رپورٹ کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے جس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں استصواب رائے کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کشمیر پر ایما نِکلسن کی تیار کردہ اس رپورٹ کی حمایت میں 522 اور مخالفت میں صرف نو ووٹ ڈالے گئے جبکہ پارلیمنٹ کے انیس ارکان رائے شماری کے وقت غیر حاضر تھے۔ رپورٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اس میں (ایما نکلسن رپورٹ) ابھی مزید تبدیلیوں کی ضرورت تھی تا کہ یہ مسئلہ کشمیر کے حل میں حقیقت پر مبنی مثبت اثر ڈال سکتی۔ ’منظوری سے پہلے یہ رپورٹ بہت ہی زیادہ جانبدارانہ تھی اور بعد میں اس میں کئی تبدیلیاں کی گئیں، لیکن ابھی بھی اس میں بہتری کی گنجائش تھی‘۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود نے ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے ایما نکلسن رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ یہ کشمیر کے حق میں نہیں ہے لیکن یہ مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ ’یورپیئن پارلیمنٹ میں پہلی دفعہ کشمیر پر تفصیلی بحث کی جائے گی‘۔ رپورٹ میں بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے وہاں ہر سطح پر جمہوری اداروں کو مروج کیا گیا ہے جبکہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر میں جمہوریت کو پوری طرح رائج کرنے میں ناکام رہا ہے اور گلگت اور بلتستان میں بھی جمہوریت نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان لوگوں کی آمدورفت میں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر دو طرف کے کشمیری عوام کے آپس میں رابطوں میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک مشترکہ یونیورسٹی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔  | | | بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ جموں اور کشمیر میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ ختم کرے |
اضافوں اور ترامیم کے بعد ایما نکلسن کی جو رپورٹ یورپیئن پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت سے منظور کی گئی ہے اس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ’معطلی‘ اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات، جنہیں رپورٹ میں منفی قرار دیا گیا ہے، پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ جموں اور کشمیر میں ماورائے عدالت ہلاکتوں اور لوگوں کے لاپتہ ہونے کے عمل کو ختم کرے اور انسانی حقوق کے ایک آزاد کمیشن کے ذریعے بھارتی فوج کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائے۔ |