BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 May, 2007, 04:43 GMT 09:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر پر استصواب رائے مسترد
ایما نِکلسن
کشمیر پر ایما نِکلسن کی تیار کردہ اس رپورٹ کی حمایت میں 522 ووٹ ڈالے گئے
یورپیئن پارلیمنٹ نے ایک ایسی رپورٹ کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے جس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں استصواب رائے کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کشمیر پر ایما نِکلسن کی تیار کردہ اس رپورٹ کی حمایت میں 522 اور مخالفت میں صرف نو ووٹ ڈالے گئے جبکہ پارلیمنٹ کے انیس ارکان رائے شماری کے وقت غیر حاضر تھے۔

رپورٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اس میں (ایما نکلسن رپورٹ) ابھی مزید تبدیلیوں کی ضرورت تھی تا کہ یہ مسئلہ کشمیر کے حل میں حقیقت پر مبنی مثبت اثر ڈال سکتی۔ ’منظوری سے پہلے یہ رپورٹ بہت ہی زیادہ جانبدارانہ تھی اور بعد میں اس میں کئی تبدیلیاں کی گئیں، لیکن ابھی بھی اس میں بہتری کی گنجائش تھی‘۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود نے ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے ایما نکلسن رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ یہ کشمیر کے حق میں نہیں ہے لیکن یہ مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ ’یورپیئن پارلیمنٹ میں پہلی دفعہ کشمیر پر تفصیلی بحث کی جائے گی‘۔

رپورٹ میں بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے وہاں ہر سطح پر جمہوری اداروں کو مروج کیا گیا ہے جبکہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر میں جمہوریت کو پوری طرح رائج کرنے میں ناکام رہا ہے اور گلگت اور بلتستان میں بھی جمہوریت نہ ہونے کے برابر ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان لوگوں کی آمدورفت میں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر دو طرف کے کشمیری عوام کے آپس میں رابطوں میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک مشترکہ یونیورسٹی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ جموں اور کشمیر میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ ختم کرے

اضافوں اور ترامیم کے بعد ایما نکلسن کی جو رپورٹ یورپیئن پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت سے منظور کی گئی ہے اس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ’معطلی‘ اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات، جنہیں رپورٹ میں منفی قرار دیا گیا ہے، پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ جموں اور کشمیر میں ماورائے عدالت ہلاکتوں اور لوگوں کے لاپتہ ہونے کے عمل کو ختم کرے اور انسانی حقوق کے ایک آزاد کمیشن کے ذریعے بھارتی فوج کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی مراکزپالیسی 'ان وزایبل'
فوجی موجودگی کو 'ان وزایبل' بنانے کے لیے
نعیم خانکشمیری رہنما
’پاکستان مسلح شورش سے کنارہ کش‘
مظاہرہاحتجاجی مظاہرہ
انڈین کشمیر میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا مظاہرہ
مسئلہ کشمیر کا حل
’متفقہ اور مشترکہ نظام تشکیل دینا ہوگا‘
’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔لاپتہ کشمیری
لاپتہ افراد کے اہل خانہ فریاد کرتے ہیں
کشمیر: سالنامہ 06
فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال
ہیومن رائٹس رپورٹ
’آزاد‘ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد