’اندرونی خلفشار سے امن کو خطرہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی حزب مخالف کی جماعت نیشنل کانفرنس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کی اندرونی سلامتی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو کشمیر سمیت پورے برصغیر میں حالات کشیدہ ہوجائیں گے۔ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سرپرست ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے اندرونی حالات مستحکم نہیں ہیں اور اس صورتحال کا براہ راست اثر ہند پاک امن عمل پر پڑتا ہے۔ ریاست کی علیٰحدگی پسند جماعتیں اس طرح کے بیانات آئے روز دیتی رہتی ہیں، لیکن کسی ہندنواز رہنماء کی طرف سے اس طرح کا بیان معنی خیز سمجھا جارہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’جب بھی مسئلہ کشمیرکے حوالے سے بات آگے بڑھی ہے، کچھ نہ کچھ ہوتا رہا ہے۔ پہلے جواہر لعل نہرو انتقال کرگئے، اس کے بعد بات پھر شروع ہوئی تو لال بہادر شاستری چل بسے، اس کے بعد جنگیں ہوتی رہیں، اور اسکے بعد جب امن عمل دوبارہ شروع کرنے کی باتیں ہونے لگیں تو (ذوالفقار علی) بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی۔‘ ڈاکٹرفاروق نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اپنے ’خدشات‘ سے آگاہ کرچکے ہیں۔ ’میں نے وزیراعظم صاحب سے کہا ہے کہ اگر ورکنگ گروپوں نے سفارشات پیش کیں ہیں تو ان پر عمل کرنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے، کیونکہ حالات بگڑ رہے ہیں، اور ان کاا ثر کشمیر کی اندرونی حالات پر بھی پڑے گا۔‘ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ورکنگ گروپوں نے جو سفارشات پیش کیں ان میں جنگجوؤں کے ساتھ بلاشرط بات چیت، ہجرت کرچکے کشمیری پنڈتوں کی واپسی، فوجی تعیناتی میں کمی اور فوج کو حاصل اختیارات کے خاتمہ کی وکالت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پاکستان کے لال مسجد بحران کا حوالہ دے کر کہا وہاں کی حکومت کشمیر کے بارے میں لچکدار مؤقف اپنانے کے باوجود امن عمل کو آگے نہیں لے جا سکی ہے کیونکہ وہاں حالات بگڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میں نکسل اور ماؤنواز مسلح شورشوں کا ذکر کیے بغیر انہوں نے کہا کہ ’اگر ہندوستان اور پاکستان میں حالات مستحکم نہ ہوئے، تو برصغیر میں حالات کشیدہ ہوجائیں گے۔ اسی لیے میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ جوکچھ بھی کرنا ہے، جلدی کرنا ہوگا۔‘ ڈاکٹر فاروق نے عوام سے مخاطب ہوکر کہا: ’میں لوگوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ ان کے لیے بہت ہی مشکل وقت آنے والا ہے، بہت ہی مشکل وقت۔‘ ڈاکٹر فاروق برٹش انڈیا کی تقسیم کے بعد ہندوستان کے زیرانتظام ’خود مختار کشمیر‘ کے پہلے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے والد کے انتقال کے بعد تین بار ریاست پر حکومت کی۔ اس کے علاوہ وہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں عمر عبداللہ پر کپوارہ میں حملہ09 July, 2007 | انڈیا ’کشمیر: تحویل میں ہلاکتیں‘12 September, 2006 | انڈیا انسانی حقوق کے کارکن پر پابندیاں30 September, 2006 | انڈیا لاپتہ کشمیری۔۔۔28 October, 2006 | انڈیا افضل، کشمیریوں میں ملاجلا ردعمل20 October, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||