BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 July, 2007, 07:45 GMT 12:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: طالب علم کی ہلاکت، مظاہرے

کشمیر(فائل فوٹو)
’نئی دلّی کے ساتھ تب تک بات چیت ممکن نہیں جب تک انسانی حقوق کی پامالیاں ختم نہیں ہو جاتی: میر واعظ
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں جمعہ کو مظاہروں کے دوران ایک طالب علم کی ہلاکت کے خلاف دوسرے روز بھی مظاہرے ہوئے۔ پولیس کے مطابق طالب علم کی موت آنسو گیس کے ایک شیل لگنے سے ہوئی تاہم مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں نوعمر طالب علم ہلاک ہوگیا۔

پائین شہر کے ایس پی بشیر احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پائین شہر کے نائد کدل علاقے کے رہنے والے منتظر احمد جمعہ کے روز ہونے والے مظاہروں میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ شدید پتھراؤ کے بعد جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور ٹئیر گیس کا استعمال کیا تو اس دوران منتظر کے سر میں ایک شیل لگا اور رات کو ان کی موت ہوگئی ۔

ہفتے کے روز نائد کدل سے ان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے اور پورے ڈاؤن ٹاون علاقے میں دوکانیں بند ہوگئیں۔ اس دوران ٹریفک کو پولیس کی مداخلت کے بعد بحال کیا گیا، لیکن شہر کے نچلے علاقوں میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

ایس پی خان کے مطابق حالات قابو میں ہیں اور معمول کی زندگی بحال کر دی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے منتظر احمد کے بھائی نے، سہیل جو مظاہروں میں شامل تھا، بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے پولیس نے بہت سارے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور بعد میں فائرنگ کی۔ میں نے منتظر کو گرتے دیکھا۔ میں اس سر سے خون بہتے دیکھا۔ پھر ہم نے اسےصورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ہسپتال پہنچایا، اور وہاں اس کی موت ہوگئی‘۔

میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے حکام نے منتظر کی موت کے بارے میں کوئی رائے دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’یہ پولیس کیس ہے‘۔

جمعہ کے روز ہونے والے یہ مظاہرے سید علی گیلانی اور جہاد کونسل کی کال پر ’انسانی حقوق کی پامالیوں‘ کے خلاف کئے جارہے تھے۔حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ میرواعظ عمر نے بھی ہفتہ بھر کے یورپی دورے سے واپسی پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ’نئی دلّی کے ساتھ تب تک بات چیت ممکن نہیں جب تک انسانی حقوق کی پامالیاں ختم نہیں ہو جاتیں۔ حکومت ہند کو اپنی فورسز کو لگام دینی چائیے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد