BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 June, 2007, 07:09 GMT 12:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں کیخلاف اشتعال، برہنہ پریڈ

فائل فوٹو
ضلع کے پولیس سربراہ کے مطابق دونوں فوجیوں کے خلاف جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اپنی نوعیت کے پہلے واقعہ میں مشتعل ہجوم نے ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرنے کی کوشش پر فوج کے دو جوانوں کو برہنہ پریڈ کروائی ہے۔

ریاستی پولیس نے فوج کے دونوں جوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ضلع بانڈی پورہ کے پولیس سربراہ وپلو کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں فوجیوں کے خلاف جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تاہم فوج کے ایک ترجمان کرنل منجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ دونوں فوجی گاؤں میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے گئے تھے۔ بقول ان کے بعض سخت گیر افراد ان دونوں جوانوں پر غلط الزام لگا کر مقامی آبادی کو مشتعل کرنے کوشش کی کر رہے ہیں۔

مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ سادہ لباس پہنے ہوئے فوج کے دو جوانوں نے باندی پورا شہر کے قریب کنان گاؤں کے ایک گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔

پولیس ایکشن میں تیس افراد زخمی
 مشتعل گاؤں والوں نے پہلے تو فوجی جوانوں کو پیٹا اور پھر برہنہ کرنے کے بعد منہ کالا کر کے ان کے بال کاٹ دیے اور بازار میں پریڈ کروائی۔ ہزاروں افرادنے فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے شہر میں مارچ کیا۔ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے اور فوج کے دونوں جوانوں کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے اور ہوا میں گولیاں چلانی پڑیں۔ پولیس ایکشن میں تیس سے زائد شہری زخمی ہوگئے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لوگ شدت پسندوں کی طرح گھر والوں سے خوراک اور پناہ کا مطالبہ کر رہے تھے اور اسی دوران انہوں نے ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی کی کوشش کی لیکن اس لڑکی نے شور مچانا شروع کر دیا جس پر آواز سن کر اس کے پڑوسی لڑکی کی مدد کرنے وہاں پہنچ گئے۔

مشتعل گاؤں والوں نے پہلے تو فوجی جوانوں کو پیٹا اور پھر برہنہ کرنے کے بعد منہ کالا کر کے ان کے بال کاٹ دیے اور بازار میں پریڈ کروائی۔ ہزاروں افرادنے فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے شہر میں مارچ کیا۔ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے اور فوج کے دونوں جوانوں کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے اور ہوا میں گولیاں چلانی پڑیں۔ پولیس ایکشن میں تیس سے زائد شہری زخمی ہوگئے ہیں۔

ضلع میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد، جن میں اکثر خواتین اور بچے ہیں، فوج کے خلاف مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ضلع کی ایک بستی سے متصل ایک فوجی کیمپ کو ہٹایا جائے۔

واقعے پر فوج کا موقف
 ہمارے پاس جو پہلی رپورٹس ہیں اس کے مطابق فوج کی ایک گشتی پارٹی اس علاقہ میں پیٹرولنگ کررہی تھی۔ لوگ جذباتی ہوگئےاور انہوں نے ان میں سے دو اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور پانچ کلومیٹر تک جلوس کی صورت میں ان کی مارپیٹ کی۔ جلوس جب بانڈی پورہ پہنچا تو وہاں پولیس نے ان اہلکاروں کو بچا لیا۔
برگیڈئیر جی یو گرگ
مقامی ڈی ایس پی غلام جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ زرینہ نے پولیس میں جو رپورٹ لِکھوائی ہے اس کے مطابق فوج کے ان افسروں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ زرینہ نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ ان اہلکاروں نے اب تک تین مرتبہ اس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

بانڈی پورہ میں قائم فوجی یونٹوں کے نگران برگیڈئیر جی یو گرگ کا کہنا ہے: ’ہمارے پاس جو پہلی رپورٹس ہیں اس کے مطابق فوج کی ایک گشتی پارٹی اس علاقہ میں پیٹرولنگ کررہی تھی۔ لوگ جذباتی ہوگئےاور انہوں نے ان میں سے دو اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور پانچ کلومیٹر تک جلوس کی صورت میں ان کی مارپیٹ کی۔‘ مسٹر گرگ کا کہنا ہے کہ جلوس جب بانڈی پورہ پہنچا تو وہاں پولیس نے ان اہلکاروں کو بچا لیا۔

ڈی ایس پی جیلانی کے مطابق دونوں اہلکار فی الوقت پولیس تحویل میں ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ مسٹر جیلانی کا کہنا تھا کہ دونوں کو طویل طبی نگہداشت کی ضرورت ہے کیونکہ وہ نہ صرف زخمی ہیں بلکہ نفسیاتی شاک میں بھی ہیں۔

کشمیر صوبہ میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان کرنل منجیندر نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج نے اپنی سطح پر معاملے کی تفتیش شروع کی ہے کیونکہ اس واقعہ کے مختلف ورژن سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جو بھی ملوث پایا جائے گا اسے سزا دی جائے گی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد