BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 June, 2007, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: جوڑوں پرکریک ڈاؤن

کشمیر
پولیس نے سکول اور کالج کے طلبا جوڑوں کی تخلیہ ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی ہے
ہندوستان کےزیرانتظام کشمیر میں مقامی پولیس نے’غیراخلاقی اطوار‘ کے مرتکب نوجوان جوڑوں کے خلاف ہمہ گیر مہم شروع کردی ہے اس سلسلے میں پرائیویٹ کیبن والے ریستورانوں، انٹرنیٹ پارلروں اور تفریح گاہوں پر پچھلے کئی روز سے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک ایک درجن سے زائد جوڑوں کو ’قابل اعتراض‘ حالت میں گرفتار کیا گیاہے۔

وسطی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس فاروق احمد نے اس حوالے سے بی بی سی کوبتایا کہ پولیس ایسے جوڑوں کو تھانہ ضرور بلواتی ہے، لیکن اس کا مقصد ان کے والدین کو مطلع کرکے انہیں خبردار کرنا ہے۔

مسٹر فاروق کا کہنا ہے کہ ریاستی قانون کے مطابق عوامی آمدورفت کی جگہوں پر لڑکےلڑکیاں اخلاقی بے راہ روی کا مظاہرہ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم جاری رہے گی کیونکہ انہیں حساس سماجی حلقوں کی طرف سے شکایات موصول ہورہی ہیں اور طلبا و طالبات اس بے راہ روی کی وجہ سے اپنا تعلیمی کیرئر برباد کررہے ہیں۔

شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے واقع دیگر باغ باغیچوں میں گزشتہ روز ایک ایسی ہی مہم کے دوران بعض جوڑوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

تاہم عوامی تفریح خاص طور پر سیاحوں کے لیے تعمیر وسیع پارک باٹنیکل گارڑن میں لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان چوری چھپے آشنائیوں کی خبریں عرصہ سے آرہی ہیں۔ یہ رجحان اب پولیس مہم کی وجہ سے کافی حد تک قابو میں ہے۔

اکثر سماجی حلقوں نے اس مہم کو سراہا ہے، تاہم طلبا و طالبات میں پولیس اہلکاروں کے برتاؤ اور پوچھ گچھ کے جارحانہ طریقہء کار پر ناراضگی پائی جارہی ہے۔

نوجوان طالب علم میر اعجاز نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ وہ اس مہم کو نوجوانوں میں بے راہ روی روکنے کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاہم انہیں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ہر جوڑے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے طریقہ کار پر اعتراض ہے۔

اعجاز کا کہنا ہے کہ ’سڑک پر لڑکا اور لڑکی ایک ساتھ چل رہے ہوں تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ یہ دونوں غیراخلاقی کام کریں گے۔ پولیس والوں کو رشوت کا بہانہ مل جاتا ہے، اور سنجیدہ لوگوں کی انسلٹ بھی کی جاتی ہے اور ان سے رشوت بھی طلب کی جاتی ہے‘۔

میر اعجاز
تمام لڑکے لڑکیوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے

ڈی آئی جی کشمیر مسٹر فاروق اعتراف کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں فیلڈ میں تعینات پولیس اہلکاروں کو صورتحال کی صحیح نوعیت سمجھانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ بالغ لڑکا اور لڑکی اگر بازار میں خریداری کر رہے ہوں یا کُھلے ہال والے ریستوراں میں چائے پی رہے ہوں تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہم تو صرف غیر قانونی حرکتوں کی روک تھام کررہے ہیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں عنقریب والدین اور پولیس کے درمیان ایک کونسلنگ اجلاس منعقد کریں گے جس کے دوران اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے والدین کا تعاون حاصل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پچھلے سال جنسی استحصال کا بہت بڑا سکینڈل بے نقاب ہونے کے بعد خواتین کی اسلام پسند تنظیم دختران ملت نے وادی بھر میں جنسی بے راہ روی کے خلاف ایک تحریک چلائی تھی ۔

اس سلسلے میں مبینہ طور پر جنسی کاروبار کی سرغنہ سبینہ کی رہائش گاہ کو مشتعل ہجوم نے تباہ کردیا تھا سبینہ اس وقت پولیس تحویل میں ہے۔

سکینڈل میں دو سابق وزیر، بھارتی نیم فوجی دستے بی ایس ایف اور جموں کشمیر پولیس کے دو اعلیٰ افسروں سمیت کئی بڑے سرکاری عہدیداروں کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

مقامی وکلاء نےملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے کا بائیکاٹ کیا تو یہ معاملہ سرینگر سے چندی گڑھ منقتل ہوا جہاں وہ فی الوقت زیرسماعت ہے۔

اسی بارے میں
کشمیر: جوڑوں کی آزادی سلب
14 February, 2007 | انڈیا
کشمیر:شراب کے خلاف مہم
01 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد