BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 February, 2007, 12:07 GMT 17:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: جوڑوں کی آزادی سلب

کشمیر
ایک ہوٹل میں موجود جوڑوں پر حملہ
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں دخترانِ ملت نامی تنظیم نے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر محبت کے پیغامات والے رُقعے نذرآتش کیے ہيں جسے بعض لڑکوں نے اپنی ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دیا۔


تنظیم کے کارکنوں نے ریستورانوں پر دھاوا بول کر ’عشقیہ ملاقاتوں‘ کے خلاف نوجوان جوڑوں کی سرزنش کی۔ کئی مقامات پر ان جوڑوں اور دختران کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

دختران ملّت کی سربراہ آسیہ اندرابی کی قیادت میں مرد و خواتین رضاکاروں کی ایک جمعیت نے بدھ کی صبح کشمیر کی تجارتی شہ رگ لالچوک میں واقع ریستورانوں اور تحائف بیچنے والی دکانوں پر دھاوا بول دیا۔ برقعہ پوش خواتین اور مخصوص قسم کی ٹوپیاں پہنے نوجوانوں کی ٹولی نے ویلنٹائن کارڑ نذر آتش کیے، تاہم دکاندار خاموش تماشائی بنے رہے۔

لالچوک میں مبارکبادی کے رُقعے بیچنے والے اعجاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آسیہ جی نے جب مطالبہ کیا کہ ہم ویلنٹائن کارڑ ان کے سپرد کریں تو ہم نے ایسا ہی کیا‘۔

لالچوک میں ہی واقع ریزارٹ ریستورانٹ میں جب آسیہ اور ان کے ساتھیوں نے چائے پینے والے جوڑوں کی تخلیہ میں ملاقات کو قابل اعتراض قرار دیا تو بعض لڑکوں نے اسے ذاتی زندگی میں بے جا مداخلت کہا۔

عینی شاہدین کے مطابق ان لڑکوں نے جب آسیہ کی برقعہ مہم پر فقرے کسے تو دختران کے مرد رضاکاروں نے ان لڑکوں کی پٹائی کی۔

اس موقعہ پر موجود ایک پولیس کانسٹیبل سرجان محمد کا شناختی کارڑ بھی چھینا گیا اور آسیہ نے اس پر الزام لگایا کہ وہ ہوٹل مالکان کے ساتھ مل کر وادی میں ’فحاشی‘ کو فروغ دے رہے ہیں۔ سرجان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دراصل اپنی منگیتر کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔

’ویائنڈز‘ نامی دوسرے ریستوراں میں جب دختران ملت کی ٹیم داخل ہوئی تو وہاں پر موجود جوڑے بوکھلا اُٹھے اور لڑکے فرار ہوگئے۔ اس پر ہوٹل کے ایک ملازم نے طنزاً کہا کہ ’صنم بے وفا نکلے‘۔ خوف کے عالم میں لڑکیاں بھی ہوٹل کی دوسری منزل کی طرف بھاگیں، لیکن آسیہ نے انہیں کہا کہ ان پر تشدد نہیں ہوگا بلکہ وہ انہیں سمجھانے کے لیے آئی ہیں۔

آسیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب تک دنیا ہے، گناہ بھی ہے۔ ہم پوری طرح اس کو ختم نہیں کر سکتے۔ لیکن جب گناہ کو ثقافت کا حصہ بنا کر اسے قانونی جواز دینے کی کوشش کی جائے تو ہم اس کی مزاحمت کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں پولیس کشمیر میں بے راہ روی کو فروغ دے رہی ہے‘۔

پچھلے سال اپریل میں جنسی سکینڈل کی بے نقابی کے بعد ریستورانوں کا کام بے حد متاثر ہوا تھا۔ تاہم پچھلے چند ماہ سے ان میں جوڑوں کی آمد ورفت بحال ہونے لگی تھی۔

ایک مقامی ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ ’پچھلے سال پولیس نے جب یہ اعلان کیا کہ فیملی کیبن یا ہجروں کی اجازت نہیں دی جائے گی ہم نے کھلی سپیس رکھی ہے۔ اب کوئی جوڑا آتا ہے، چائے پیتا ہے اور جاتا ہے‘۔

پولیس کے ڈی آئی جی فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ردعمل دینے لے لیے متعلقہ ایس ایس پی کو ہدایات دینگے، لیکن جب ایس پی آنند جین سے رابط کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ’بہتر ہے آپ ایس ایس پی، سٹی، سے رابطہ کریں۔’ایس ایس پی سرینگر سید مجتبیٰ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا موبائل بند تھا‘۔

اسی بارے میں
ویلنٹائن ڈے، محبت کا دن
13 February, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد