ویلنٹائن ڈے، محبت کا دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیار اور محبت کے جذبات کےاظہار کے لیے جب الفاظ ساتھ نہ دیں تو تحفے دیے جانے چاہیں۔ خاص طور پر ویلنٹائن ڈے پر، اس کے بعد کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ چودہ فروری کو پوری دنیا میں ویلنٹائین ڈے منایا جاتا ہے۔ باقی دنیا کی طرح گزشتہ کچھ برسوں سے بھارت کے نوجوان بھی اسے جوش و خروش منانے لگے ہیں۔ ہر کوئی اپنے پیار کے اظہار کے لیے پھول، گلدستے تحفے اور زیورات خریدنے میں مصروف ہے۔ صنعت کار اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ کئی برانڈز نے موقع کی نزاکت کے مطابق خوبصورت اور منفرد قسم کے کارڈ، خصوصی تحفے اور زیوارات تیا کیے ہیں۔ خرید و فروحت کے لیے نئے طریقے بھی اپناۓ گئے ہیں اور انٹرنیٹ و ویب سائٹ کی مدد لی جارہی ہے۔ باندرہ میں زیبا کلیکشن پر لڑکیوں کی آج کل خوب بھیڑ ہوتی ہے۔ منیجر بھرت بھائی کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن کارڈ کی خریداری کالج کے لڑکے اور لڑکیاں زیادہ کرتی ہیں۔ اس بار کارڈ کے علاوہ تحفے بھی خوب بک رہے ہیں۔ فلمی اداکار بھی اپنے اپنے انداز سے ویلنٹائن منانے کی تیاری میں ہیں۔ زید خان کا کہنا ہے کہ وہ اس دن اپنی گرل فرینڈ سے کم کسے کم پانچ سو مرتبہ محبت کا اظہار کریں گے۔ لیکن وہ ہے کون خوش نصیب اسکے بارے میں وہ ابھی نہیں بتائیں گے۔ اسکے برعکس دیا مرزا کا کہنا تھا کہ چونکہ ویلنٹائین ڈے مغربی تہذیب کا ایک حصہ ہے اس لیے وہ اس پر یقین نہیں رکھتیں ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ بعض افراد ویلنٹائن ڈے نہیں مناتے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ گریٹینگز ایسوسی ایشن کے مطابق ویلنٹائن ڈے کے تقریبا ایک ارب کارڈ فروحت ہوتے ہیں اور ان کی پچاسی فیصد خریدار خواتین ہوتی ہیں۔ چودہ فروری کو بہت سی محبت کی داستانیں رقم ہونگی۔ لیکن سچ یہ کہ جہاں بہت دل ملیں گے وہیں کئی ٹوٹیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||