'یوم محبت‘ یا ’یومِ مخالفت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی سطح پر منایا جانے والا یومِ محبت سب سے زیادہ خوشی سان فرانسیسکو کے ان ہم جنس پرستوں کے لیے لایا جنہوں نے اس تہوار کو ہم جنسوں میں شادی کے لائسنس پر پابندی کے خاتمے کے جشن سے دوبالا کیا اور باقاعدہ جنسی جوڑوں کی حیثیت سے زندگی شروع کی۔ عیسائیوں کی بزرگ شخصیت سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیے جانے والے اس دن کو اب عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ لیکن ساری دنیا اس تہوار کو منانے کے حق میں نہیں۔ ایک سعودی اخبار نے اپیل کی ہے کہ مسلمان اس تہوار کو نہ منائیں کیونکہ یہ ’مشرک عیسائیوں کا تہوار‘ ہے۔ سعودی پولیس نے اس موقع پر دکانوں، ہوٹلوں، ریستورانوں، اور سرکاری پارکوں کے منتظمین سے بھی کہا کہ وہ اس حوالے سے کسی خصوصی تقریب یا پروگرام کا اہتمام نہ کریں۔ روزنامہ الجزیرہ نے اس سلسلے میں جاری کیا جانے والا ایک فتویٰ بھی شائع کیا ہے جس میں ’ویلنٹائن کے دن کے حوالے سے گانے، ناچنے، کھیل کود اور عورتوں و مردوں کا مشترکہ تقریبات کرنے‘ کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کے صنعتی دارالحکومت کراچی میں ایک مذہبی گروپ کے طلباء نے اس دن کے حوالے سے ہنگامہ کیا اور جامعہ کراچی میں اس حوالے سے ہونے والے تصادم میں دو طالبِ علم زخمی ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک طالبِ علم نے ایک طالبہ سے ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے ’وینٹائن ڈے مبارک‘ کہا۔ بنگلہ دیش میں ایک اخبار نے نوجوانوں کو ایک ایسے مقام کے بارے میں اشاروں سے بتایا تاہم اس کے ساتھ ہی متنبہ کیا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں وہاں آنے کے لیے رکشے وغیرہ استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے ان کے ایسے عزیزوں کو مداخلت کا موقع مل سکتا ہے جو اس تقریب کو پسند نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||