سرینگر میں ہوٹل پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سینکڑوں مظاہرین نے جمعہ کو ایک مقامی ہوٹل پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ اسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مبینہ طور پر جسمانی تعلقات کےلیے استعمال کرتے تھے۔ مظاہرین نے ہوٹل کے فرنیچر، درواز ے اور کھڑکیوں کو نقصان پہنچایا اور ایک گاڑی کو آک لگا دی اور نزدیکی پارک میں کھڑی دو گاڑیوں پر توڑ پھوڑ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت بعض جوڑے ہوٹل میں موجود تھے لیکن وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ مظاہرین نے کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں ’ناجائز سرگرمیاں‘ پولیس کی مدد سے جاری تھیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس ہوٹل میں جسم فروشی بھی ہوتی تھی۔ اے پی نے ایک اعلیٰ پولیس افسر فاروق احمد کے حوالے سے بتایا کہ جمعہ کی شام کو لوگوں نے ہوٹل کے باہر جمع ہو کر الزام لگایا کہ وہاں پر جسم فروشی اور غیر قانونی طور پر شراب فروخت ہوتی ہے۔ خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس اس بات کی تفتیش کررہی ہے کہ اس حملے کے پیچھے کشمیر میں سرگرم خواتین کی ایک تنظیم دختران ملت کا ہاتھ تو نہیں ہے۔ دختران ملت نےاس بات سےانکار کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔ دختران ملت نے 1990 کی دہائی میں مسلم خواتین کے برقعہ پہننے کی مہم بھی شروع کی تھی اس مہم کو ابتداء میں تو کامیابی ملی لیکن زیادہ دن نہیں چل سکی۔ دخترانِ ملت کے کارکنان نے کشمیر میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر محبت کے پیغامات والے رُقعے نذرآتش کیے تھے۔ | اسی بارے میں کشمیر: جوڑوں کی آزادی سلب14 February, 2007 | انڈیا ’بنیاد پرست کہلائے جانے سے نہیں ڈرتی‘30 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل، عدالت ناراض29 May, 2006 | انڈیا جنسی سکینڈل: رومانس میں بریک13 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||