’بنیاد پرست کہلائے جانے سے نہیں ڈرتی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر کے زکورہ باغ علاقے میں بچوں اور خواتین پر مشتمل پچاس نفوس کا اجتماع ایک خیمے تلے جمع ہے۔ مکمل طور پر پردے میں موجود ایک خاتون کرسی پر بیٹھ کر پرجوش تقریر میں مصروف ہیں۔ وہ مجمع سے کہہ رہی ہیں ’آپ کو اپنی بیٹیوں کی حفاظت کرنا ہوگی‘۔ سب ہی ان خاتون سے متفق ہیں۔ کچھ چہروں پر پریشانی عیاں ہے۔ کچھ بوڑھی خواتین اپنے آنسو پونچھ رہی ہیں۔ تقریر کرنے والی خاتون کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیم دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی ہیں۔ آسیہ اندرابی کا کہنا ہے کہ اس تقریر کا مقصد خواتین میں حالیہ جنسی سکینڈل کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے جس نے حال ہی میں کشمیری عوام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔
اندرابی اس سکینڈل کے خلاف منظم کیئے جانے والے احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش رہی ہیں۔ آسیہ اندرابی ایک ڈاکٹر کی بیٹی اور ایک گھریلو خاتون ہیں۔ 1981 میں کشمیر یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ ہماچل پردیش کی ریاست میں کیمسٹری میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں تاہم ان کے بھائی نے انہیں کشمیر سے باہر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ وہ بتاتی ہیں ’مجھے اپنے والد کی لائبریری سے ایک کتاب ملی جس کا نام تھا ’خواتین کے دلوں کی بات‘۔ جب میں نے اس کتاب کو پڑھا تو یہ جان کر مجھے دھچکا لگا کہ اسلام کے بارے میں اور اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں میری معلومات کس قدر محدود ہیں‘۔ اس کے بعد آسیہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی اور 1982 میں بطور استانی ایک سکول میں ملازمت کرلی تاکہ بچیوں کو قرآن کی تعلیم سے روشناس کروا سکیں۔ حکومت کے ساتھ ان کا پہلا تنازع 1987 مارچ میں ہوا جب انہوں نے عریانیت اور عورت کے استحصال کے خلاف ایک مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بسوں میں خواتین کی علیحدہ نشستوں کا مطالبہ بھی کیا۔ اسی روز دختران کے دفاتر سیل کردیئے گئے۔ ’تمام دستاویزات حکومتی تحویل میں لے لیئے گئے، میرے والدین کو دھمکیاں ملنی شروع ہوگئیں اور شام کو ہمارے گھر پر چھاپہ مارا گیا‘۔ اس واقعے کے بعد 21 روز کے لیئے اندرابی روپوش ہوگئیں۔
بھارت مخالف مہم 1989 میں شروع کی گئی تھی اور دختران ملت وہ پہلی تنظیم تھی جس نے اس کی حمایت کا اعلان کیا۔ آسیہ کہتی ہیں کہ انہیں یہ دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی کہ ’ہمارے جوان بھارت سے لڑنے کو تیار ہیں۔ ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، اگر آپ جہاد کریں گے تو ہم آپ کی خواتین کا ساتھ دیں گے‘۔ ’عسکریت پسندی‘ کا ساتھ دینے کے الزام پر آسیہ کی تنظیم 1990 میں کالعدم قرار دے دی گئی۔ ایک سال بعد آسیہ پھر سے روپوش ہوگئیں۔ اس دفعہ چند روز کے لیئے نہیں بلکہ چودہ سال کے لیئے۔ اسی دوران ان کی محمد قاسم سے شادی اور پھر دو بیٹے ہوئے۔ وہ کہتی ہیں ’قاسم بہت اچھے جہادی تھے‘۔ محمد قاسم کا تعلق سابق جمیعت المجاہدین تنظیم سے تھا اور وہ اس کے کمانڈر تھے۔ اب وہ سرینگر کی سینٹرل جیل میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ آسیہ کا کہنا ہے ’وہ اصولوں کے پابند شخص تھے جس نے بھارت کی جارحیت کے خلاف جنگ کی‘۔
اندابی کا کہنا ہے کہ ’براہمن بھارت‘ کا کشمیر پر کوئی حق نہیں ہے۔ ’کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیئے۔ ہم اسلامی اتحاد پر یقین رکھتے ہیں‘۔ آسیہ کو ’بنیاد پرست‘ قرار دیئے جانے کا کوئی ڈر نہیں۔’میں اسلام کے بنیادی اصولوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ آپ چاہیں تو مجھے بنیاد پرست کہہ سکتے ہیں۔ میں سیکولرزم پر یقین نہیں رکھتی۔ میں نہیں مانتی کہ تمام مذاہب برابر ہیں اور یہ کہ تمام مذاہب کی بنیاد سچائی پر ہے‘۔ گزشتہ دو سال کے دوران آسیہ کئی مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی مہمات شروب نوشی، کشمیر میں طوائفوں کے کاروبار، بیوٹی پارلرز، سینما، اور ٹیلیویژن کے چند مخصوص پروگراموں کے خلاف ہیں، جو آسیہ کے خیال میں نئی نسل کو برائی کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں انٹرنیٹ کیفیز اور ایسے ریستورانوں پر چھاپے مارے ہیں جہاں نوجوان جوڑوں کی تنہائی میں ملنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
اپنی انہیں کارروائیوں کی پاداش میں وہ کئی دفعہ جیل جاچکی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کشمیر کے بیوٹی پارلرز پر الزام لگایا تھا کہ یہ غیر اخلاقی اقدار کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جگہیں ’طوائفوں کا کاروبار کرنے والوں کے اڈے ہیں‘۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یہ پارلرز بند کیئے جائیں۔ ان کا کہنا ہے ’عورت کو صرف اپنے شوہر کے لیئے خوبصورت بننا چاہیئے۔ میرے شوہر کہتے ہیں کہ میری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں اور وہ بھی جب میں کاجل لگاؤں لیکن میں صرف اور صرف اپنے شوہر کے سامنے کاجل لگاتی ہوں۔ یہ صرف ان کا حق ہے۔ صرف انہیں یہ بتانے کا حق ہے کہ میرے بارے میں انہیں کیا پسند و ناپسند ہے‘۔ شاید انہیں سخت اصولوں کے باعث دختران ملت 25 سال کے عرصے میں بھی مقبول نہیں ہوسکی۔ کشمیر کے ایک معروف صحافی شجاعت بخاری کہتے ہیں کہ ’دختران ایک اصلاحی تنظیم کے طور پر بنائی گئی تھی۔ یہ ایک سخت گیر تنظیم ہے جو صرف سرینگر تک محدود ہے‘۔ دوسری جانب اندرابی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نظریات بدلنے کو تیار نہیں۔ ’میں عام سیاستدانوں کا طرح دوغلے نظریات نہیں رکھ سکتی‘۔ | اسی بارے میں سیکس سکینڈل، عدالت ناراض29 May, 2006 | انڈیا ہندی زبان پر سی بی آئی کی سر زنش 16 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: والدین پریشان15 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: شناختی پریڈ ہوگی19 May, 2006 | انڈیا کشمیر میں جنسی سکینڈل پر ہڑتال05 May, 2006 | انڈیا جنسی سکینڈل پر ہڑتال جاری06 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||