کشمیر: فوجی اہلکار کی خودکشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیراتنظام کشمیر کے کنگن علاقے میں پولیس کا کہنا ہے کہ دوشیزہ کے ساتھ مبینہ دست درازی کرنے والے فوجی اہلکار نے مظاہرہ کرنے والوں پر گولی چلا کر ایک شخص کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کردیا اور بعد میں خودکشی کرلی۔ پولیس نے فوجی یونٹ کےخلاف قتل کا معاملہ درج کیا ہے۔ تاہم فوج کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار اور شہری کی موت جنگجوؤں کے حملے میں ہوئی۔ واردات کے حوالے سے عینی شاہدین، پولیس اور فوج کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک مسلح وردی پوش فوجی کو نوعمر دوشیزہ کے ساتھ کنگن بازار میں واقع ایک کمرشل رہائشی کمپلیکس میں جاتے ہوئے دیکھا گیا تو لوگ مشتعل ہوگئے۔ چالیس کلومیٹر دور واقع کنگن بازار میں جوتوں کی مرمت کرنے والے صادق شیخ نے بتایا ، ’چونکہ شیخ کمپلیکس نام کی یہ عمارت بالکل چوک میں واقع ہے اس لئے کئی نوجوانوں کو شک ہوا اور عمارت کے اس کمرے میں داخل ہوگئے جہاں دونوں موجود تھے۔‘ صادق کا کہنا ہے مقامی لوگوں نے دونوں کو ’رنگے ہاتھوں‘ پکڑ لیا اور چوک میں لے آئے، جہاں اس دوران ایک مشتعل بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگوں نے جب فوجی اہلکار کا جلوس نکالنے کی کوشش کی تو اس نے اپنی سرکاری رائفل سے مظاہرین پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک پینتالیس سالہ مزدور عبدالرحمٰن ماگرے موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا شہری زخمی ہوگیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ماگرے کی لاش کودیکھ کر ہجوم مزید مشتعل ہوگیا تو فوجی اہلکار نے اپنی گردن پر فائر کر دیا۔ فوج نے اہلکار کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا اور فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج کی ایک گشتی پارٹی پر جنگجوؤں نے حملہ کردیا اور فائرنگ کے تبادلے میں اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوگئے۔ لیکن پولیس نے لڑکی کا بیان نقل کرتے ہوئے بتایا کہ کنگن سے بہت دوری پر واقع صفاپورہ کی رہنے والی مذکورہ لڑکی بارہویں جماعت کی طالبہ ہے، جو نوکری کی تلاش میں کنگن آئی تھی۔ گاندربل کے ایس ایس پی عبدالرزاق نے بی بی سی کوبتایا کہ پولیس مقامی فوجی یونٹ کے خلاف قتل کا معاملہ درج کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لڑکی نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ’دو مسلح وردی پوش فوجیوں نے اسے زبردستی راتھر بلڈنگ میں پہنچایا جہاں اس کے ساتھ دست درازی کرنے کی کوشش کی'۔ لڑکی نے پولیس بیان میں کہا ہے کہ، 'جب میں نے شور مچایا تو لوگ جمع ہوگئے اور ایک فوجی فرار ہوگیا۔‘ پچھلے ہفتے بانڈی پورہ کے علاقے میں دوشیزہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف مشتعل مظاہرین نے فوج کی خفیہ سروس کے دو اہلکاروں کی برہنہ پریڈ کروائی تھی۔ | اسی بارے میں بیگناہ لڑکوں کی ہلاکت پر احتجاج 24 July, 2005 | انڈیا ترال: فوج کے خلاف مقدمہ درج13 March, 2007 | انڈیا کشمیر: خاتون فوجی افسر کی خود کشی02 July, 2007 | انڈیا کشمیر: افواج ہٹانے پرغور04 July, 2007 | انڈیا فرضی جھڑپ: کپواڑہ میں مظاہرے02 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||