BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترال: فوج کے خلاف مقدمہ درج

ہلاک ہونے والوں کی نمازِ جنازہ
جب لاشیں لواحقین کے حوالے کی گئیں تو وہاں پر کہرام مچ گیا
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے ترال میں فوج کی طرف سے دو شہریوں کے قتل کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں اور شدید عوامی احتجاج کے بعد پولیس نے فوج کی راشٹریہ رائفلز کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

فوج نے بھی اپنے طور پر انکوائری کا حکم دیاہے لیکن علاقے میں ابھی تک خوف کا عالم ہے اور مقامی لوگوں کو انصاف کی بہت کم اُمید ہے۔ ہلاک ہونے والے شہریوں کی لاشیں جب ان کے لواحقین کے سپرد کی گئیں تو وہاں پر کہرام مچ گیا۔

مقامی شہری عبدالحمید کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز فوج نے ترال کی ایک بستی کا محاصرہ کیا اور اچانک شہریوں پر گولیاں چلانا شروع کر دیں جس کے نتیجے میں جہانگیر اور غلام محمد نامی دو شہری موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ترال کے شہریوں کا احتجاج
ترال کے شہریوں نے زبردست احتجاج کے بعد پولیس کو مقدمہ درج کرنے پر مجبور کیا

اس کے بعد بستی کو چوبیس گھنٹے تک محاصرے میں رکھا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد کے امام بلال احمد گنائی سمیت کئی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

شہریوں کی ہلاکت اور گرفتاریوں کے خلاف علاقے میں خواتین نے مظاہرے کئے۔ فاطمہ نامی ایک مقامی خاتون نے بتایا کہ پچھلے کئی ماہ سے ترال علاقے میں اس نوعیت کے واقعات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت تحقیقات کا حکم دیتی ہے، ہم انتظار کرتے رہتے ہیں اور اسی دوران کوئی دوسرا واقعہ ہو جاتا ہے‘۔

جنوبی کشمیر کے ڈی آئی جی ایچ کے لوہیا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ازخود فوج کے خلاف دوہرے قتل کا کیس رجسٹر کیا ہے۔

ترال کے شہریوں کا احتجاج
’پچھلے کئی ماہ سے ترال علاقے میں اس نوعیت کے واقعات جاری ہیں‘

فوجی ترجمان کرنل ماتھُر کا کہنا ہے کہ فوج نے اس واقعہ کے حوالے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قصور واروں کو سزا دی جائے گی۔

واضح رہے کہ فروری کے اوائل میں بھی ترال کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے ایک شہری کو فوج نے ہلاک کر دیا تھا۔ اس ہلاکت کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ فوج نے مقتول کو حراست کے دوران ازیتیں دے کر ہلاک کیا جبکہ فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ جنجگوؤں کی طرف سے حملے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں وہ شہری مارا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد