فوجی افسر برطرف، تین سال کی قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ایک فوجی عدالت نے فرضی تصادم کے معاملے میں میجر سریندر سنگھ کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے ۔ میجر سنگھ کا تعلق گورکھا رائفلز سے ہے۔ کورٹ مارشل کےدوران میجر سنگھ کو سیاچن خطے میں فرضی تصادم کا قصوروار پایا گیا اور انہیں تین سال قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے ۔ فوج کے ایک ترجمان کے مطابق ان پر عائد سبھی الزمات میں انہیں قصوروار پایا گيا ہے۔ جودھ پور کی فوجی عدالت میں یہ مقدمہ چار مہینے سے چل رہا تھا اور یہ پہلا موقع ہے جب عدالت کی کاروائی کو صحافیوں اور عام شہریوں کو دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ میجر سنگھ پر سات الزمات تھے جن میں 2003 میں سیاچن کے برف پوش خطے میں پاکستانی دراندازوں کےساتھ دو فرضی تصادم اور اپنے کمانڈر پر اس فرضی لڑائی کا ڈرامہ تیار کرنے کا الزام لگانا بھی شامل ہے۔ میجر سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں پھنسائے گئے ہیں ۔ سزا ملنے کے بعد میجر سریندر نے بتایا کہ سب سے پہلے فرضی تصادم کے معاملے کو وہ خود ہی منظر عام پر لائے تھے اور جس کے سبب اعلی افسروں نے انہیں انتقام کے طور پر پھنسا دیا۔ فوجی اہلکاروں نے بتایا کہ جنوبی کمان کے کمانڈر کی طرف سے توثیق ہونے کے بعد میجر سنگھ کی سزاۓ قید پر عمل ہوگا۔ گزشتہ چند ہفتوں میں یہ تیسرا موقع ہے جب فوجی عدالتوں نے قصوروار افسروں کے خلاف سخت کاروائی کی ہے ۔ اس سے قبل ایک سینئر کرنل کو شمال مشرق ریاستوں میں فرضی مڈ بھیڑ کا ڈرامہ رچانے کے جرم میں انکے عہدے سے بر طرف کیا گيا تھا۔ اسی طرح ایک بریگیڈیئر کی بھی سرزنش کی گئی ہے جو فوجی کینٹین کی سستی شراب مہنگے داموں پر پرائیوٹ خریداروں کو فروخت کر رہا تھا۔مبصرین کے مطابق ان واقعات سے فوج کی ساکھ کو چوٹ پہنچی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||