BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 July, 2007, 19:15 GMT 00:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرضی جھڑپ: کپواڑہ میں مظاہرے

پہلی بار ہے کسی سینئر پولیس افسر کے خلاف کسی عام شہری کے قتل کے معاملے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ہزاروں مظاہرین نے تین ’فدائی جنگجوؤں‘ کو ہلاک کرنے کے پولیس کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان اس معاملے پر جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں ضلعی پولیس انتظامیہ کے مطابق درجنوں شہری اور سولہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چار روز بعد حالات معمول پر آگئے ہیں۔

پچھلےکئی روز سے احتجاج کر رہے مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے فرضی جھڑپ میں ارشاد احمد نامی مقامی ٹھیکیدار سمیت تین افراد کو ہلاک کردیا۔ مقامی وکلا نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ فرضی جھڑپ کی واحد چشم دید گواہ خاتون کو بھی پولیس نے ہی گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔

گزشتہ جمعہ سے کنٹرول لائن سے ملحقہ ضلع کپواڑہ میں معمول کی سرگرمیاں معطل ہیں اور مقامی باشندے قبریں کھول کر مارے گئے افراد کی لاشیں باہر نکال کر واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

پچھلے ہفتے پولیس کے ترجمان نے یہ اعلان کیا تھا کہ کپواڑہ میں فوج کے برگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے کی غرض سے تین مسلح جنگجو ایک ماروتی کار میں فوجی کیمپ کی طرف آرہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنا چاہا۔ پولیس کے مطابق ڈرائیور جان بچا کر نکل گیا، تاہم کراس فائرنگ میں ایک حاملہ خاتون ہلاک ہوگئی جبکہ تینوں جنگجو مارے گئے۔

مقامی ایس ایس پی وجے کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ مفاد پرست عناصر صورتحال کو سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس آپریشن کو نہایت احتیاط سے مکمل کیا اور کوشش یہ کی گئی کہ عام شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچ پائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حملہ آور گاڑی میں سوار تینوں افراد جنگجو تھے۔ دو فدائی تھے اور ارشاد ایک ورکر تھا۔ اگر وہ جنگجو نہیں تھا تو گاڑی میں کیا کر رہا تھا۔‘

مقامی وکلاء کی تنظیم کے صدر ایڈوکیٹ بشیر احمد نے بتایا کہ عینی شاہدین اور واردات کی جگہ سے ملے سراغ سے انہیں لگتا ہے کہ یہ فرضی جھڑپ تھی۔ مظاہرین کی قیادت کر رہے بشیر کہتے ہیں کہ ’اگر یہ فرضی جھڑپ نہیں تھی تو لاشوں کو اوقاف کے سپرد کرنے کی بجائے پولیس نے خود کیوں دفن کیا۔ اب تو مزید مظاہرے ہونگے کیونکہ لگتا ہے پولیس نے لاشیں بھی غائب کر دی ہیں،۔ تاہم اس الزام کو ایس ایس پی کمار نے مسترد کر دیا۔

ضلع کمشنر اسفندیار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ’حالات میں تناؤ ضرور ہے لیکن عام سرگرمیاں بحال کر دی گئیں ہیں۔‘

عدالتی تحقیقات کے مطالبے پر مسٹر خان نے کہا کہ ’ہم حالات کو دیکھ رہے ہیں اور جو ہوگا قانون کے مطابق ہوگا‘۔

شمالی کشمیر کے کپواڑہ، سوپور، پٹن اور بارہ مولہ علاقوں میں پچھلے کئی روز سے فوج اور پولیس کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل بارہ مولہ کے اوڑی ضلع میں لوگوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فوج نے جن تین نوجوانوں کو کنٹرول لائن پر دراندازی کے دوران مارگرانے کا دعویٰ کیا تھا، وہ اصل میں عام شہری تھے جنہیں گرفتاری کے بعد زیرِحراست ہلاک کیا گیا۔

اس سال فروری میں فرضی جھڑپوں کا ایک معاملہ بے نقاب ہوگیا تھا جس میں پولیس نے ایک ایس پی اور سولہ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا۔ اس حوالے سے پانچ کشمیریوں کی لاشوں کو قبروں سے نکال کر ان کے ڈی این اے نمونے لیے گئے۔ انہیں فرضی جھڑپوں میں ہلاک کر کے پاکستانی جنگجو بتایاگیا تھا۔ تاہم لاشوں کی شناخت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جنوبی کشمیر اور سرینگر کے بعض علاقوں کے رہنے والے عام شہری تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد