کشمیر: افواج ہٹانے پرغور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے آبادی والےعلاقوں سے افواج ہٹانے کے بارے میں مزید غوروخوض سرینگر میں جاری خاص میٹنگ میں ہوگا۔ پانچ جولائی کو ہونے والی اس میٹنگ کی صدارت حکومت ہند کے ڈیفینس سیکریٹری شیکھر دت کریں گے۔ مسٹر دت، تیس مارچ کو ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی ہدایت پر بنائی گئی ماہرین کی اُس کمیٹی کے سربراہ ہیں جو وادی کشمیر کے آبادی والے علاقوں سے افواج ہٹانے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس تئس مئی کو نئی دلّی میں ہوا، جس کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے فوجی انخلاء کی کسی بھی صورت کو قبل ازوقت بتایا تھا۔ ریاست کے چیف سیکریٹری سی پھنسوکھ نے بی بی سی کو بتایا کہ، جمعرات کے اجلاس میں ریاست کی جانب سے ریاستی ہوم سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل پولیس اور کشمیر کے ڈویژنل کمشنر کے علاوہ خفیہ سروسز کے عہدیدار بھی شامل ہوں گے۔ پچھلے تین ہفتوں سے فوجی دستوں میں ’قابل عمل‘ تخفیف کرنے کے لئے نئی دلّی مختلف سطحوں پر کوششیں کررہی ہے۔ اس سلسلے میں جون میں داخلہ سیکریٹری مدھوکر گپتا نے کشمیر کا دورہ کیا اور حالیہ دنوں ہندوستان کے وزیر داخلہ شِوراج پاٹِل بھی وادی کے مختصر دورے پر آئے۔ مسٹر پاٹِل نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران کہا تھا، ’ہندوستان میں دہشت گردی سے متعلق تمام مسائل کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا ٹھیک نہیں۔ ہم الزامات اور جوابی الزامات کے کھیل میں نہیں الجھنا چاہتے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بات ہورہی ہے، اور ہم آگے بڑھ رہے ہیں‘۔ غلام نبی آزاد کی قیادت والے حکمراں اتحاد کی اہم اکائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مفتی محمد سعید نے فوجی انخلاء کے مطالبے کولے کر ہندوستان کے وزیراعظم اور یوپی اے سربراہ سونیا گاندھی کے علاوہ دیگر اہم شخصیات کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کیے۔ مارچ میں جب قریب تھا کہ مفتی حکمراں اتحاد سے الگ ہوجائیں گے، تو وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تین کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کیا جو وادی میں فوجی تعیناتی کے خدوخال کا جائزہ لے کر ’مناسب تخفیف‘ کے امکانات کو تلاش کرے گی۔ کشمیر انتطامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت ہند چاہتی ہے کہ علامتی طور پرسکولوں، میوہ باغات اور کھیتوں میں موجود فوجی کیمپوں کو ہٹایا جائے۔‘ ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری کو اس عمل کا نوڈل افسر بنایا جارہا ہے جو ہر ضلع میں مقامی ایس پی کے ذریعہ ایسی عمارتوں اور جگہوں کی فہرست مرتب کروائیں گے جہاں فوجی کیمپ موجود ہیں۔ ریاستی وزیراعلیٰ نے پچھلے چند ماہ میں متعدد بار فوج میں تخفیف کے امکان کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ ’ابھی حالات ٹھیک نہیں ہیں‘۔ اقتدار میں شریک کانگریس اور پی ڈی پی کے درمیان اس معاملے پر کافی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ تاہم وزیراعظم ڈاکٹر سنگھ اور سونیا گاندھی کی ذاتی کوششوں سے پی ڈی پی ابھی بھی حکمراں اتحاد کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں کشمیرمیں چھاؤنیاں ہٹ رہی ہیں28 April, 2007 | انڈیا کشمیر پرگول میز کانفرنس شروع24 April, 2007 | انڈیا کشمیر: دو فوجی ہلاک، متعدد زخمی01 June, 2007 | انڈیا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں القاعدہ08 June, 2007 | انڈیا کشمیر میں جھڑپیں13 ہلاک28 June, 2007 | انڈیا بھارتی فوج کے دو اہلکار ہلاک15 June, 2007 | انڈیا کشمیرگول میز 24 اپریل کو ہو گی14 April, 2007 | انڈیا حزب المجاہدین بات چیت کے راضی 06 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||