 | | | کشمیر میں جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کے انکشاف کے بعد عوام میں غصہ پایا جارہا ہے |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح جد و جہد میں کرنے والی علیحدگی پسند تنظیم حزب المجاہدین نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں عسکریت پسند رہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی شمولیت کے بغیر اس مسئلے پر بات چیت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سرینگر کے ایک مقامی اخبار میں حزب المجاہدین کے ترجمان جنید الاسلام کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا ہے : ’ کسی بھی طرح کے مذاکرات سے اس وقت تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا جب تک عسکریت پسندوں کو بھی اس میں شامل نہ کیا جائے۔‘ جنیدالاسلام نے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ کے اس بیان کی بھی ستائش کی ہے جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ حرکت المجاہدین کے رہنما سید صلاح الدین سے بھی بات چیت کریں۔ جنیدالاسلام کے مطابق ’عمرعبداللہ کا بیان بدلتے حالات کے عین مطابق ہے۔‘ لیکن حزب المجاہدین نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ سید صلاح الدین خود بھارتی حکومت سے براہ راست بات کرنے پر راضی ہیں یا پھر وہ اب بھی بھارت، پاکستان اور کشمیری رہنماوں کے ساتھ سہ رخی بات چیت پر بضد ہیں۔ حال ہی میں سید صلاح الدین نے پاکستانی صدر پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ کشمیر کے مستقل حل کی ایک شروعات ہو سکتی ہے۔ حزب المجاہدین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حل کے لیے طرح طرح کے سیاسی رہنماؤں سے بات چیت ایک دکھاوے کے سوا کچھ بھی نہیں اور اس سے فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ |