BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 April, 2007, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حزب المجاہدین بات چیت کے راضی
کشمیر میں جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کے انکشاف کے بعد عوام میں غصہ پایا جارہا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح جد و جہد میں کرنے والی علیحدگی پسند تنظیم حزب المجاہدین نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں عسکریت پسند رہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی شمولیت کے بغیر اس مسئلے پر بات چیت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

سرینگر کے ایک مقامی اخبار میں حزب المجاہدین کے ترجمان جنید الاسلام کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا ہے : ’ کسی بھی طرح کے مذاکرات سے اس وقت تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا جب تک عسکریت پسندوں کو بھی اس میں شامل نہ کیا جائے۔‘

جنیدالاسلام نے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ کے اس بیان کی بھی ستائش کی ہے جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ حرکت المجاہدین کے رہنما سید صلاح الدین سے بھی بات چیت کریں۔ جنیدالاسلام کے مطابق ’عمرعبداللہ کا بیان بدلتے حالات کے عین مطابق ہے۔‘

لیکن حزب المجاہدین نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ سید صلاح الدین خود بھارتی حکومت سے براہ راست بات کرنے پر راضی ہیں یا پھر وہ اب بھی بھارت، پاکستان اور کشمیری رہنماوں کے ساتھ سہ رخی بات چیت پر بضد ہیں۔

حال ہی میں سید صلاح الدین نے پاکستانی صدر پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ کشمیر کے مستقل حل کی ایک شروعات ہو سکتی ہے۔ حزب المجاہدین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حل کے لیے طرح طرح کے سیاسی رہنماؤں سے بات چیت ایک دکھاوے کے سوا کچھ بھی نہیں اور اس سے فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

مظاہرہاحتجاجی مظاہرہ
انڈین کشمیر میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا مظاہرہ
یاسمینہ کی والدہ حلیمہآخری سفر
یاسمینہ 7 سال بعد بچوں سے ملنے جارہی تھیں
میر واعظ کا اعلان
’کشمیر کے متبادل حل کے لیے ہر خطرہ قبول‘
کشمیر کانفرنس
وزیراعظم منموہن سنگھ نے کیا کہا
گیارہ ستمبر کے بعد
پاکستان، ہندوستان اور کشمیر سیاست
آمدو رفت بڑھ گئی
پاک انڈیا امن اقدام سے عوامی روابط میں فروغ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد