پاک بھارت، آمد و رفت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ عوامی روابط بڑھانے کے لیئے جو اقدامات کیئے گئے ہیں اس سے دونوں جانب سے لوگوں کی آمد و رفت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے جو فیصلے کیئے ہیں اسکے خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے کہا کہ ریل ، بس اور فضائی سروسز کی بحالی سے دونوں جانب کی عوام نے خوب فائدہ اٹھایاہے۔ ان کا کہنا تھا ’اس سال کے پہلے پانچ مہینوں میں دونوں ممالک سے تقریباً ایک لاکھ ستّر ہزار لوگوں نے ایک دوسرے کے ملک کا سفر کیا ہے۔‘ وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً چوراسی ہزار لوگوں نے ایئرانڈیا اور پاکستانی ایئر لائنز سے اور ریل سروس سے سینتالیس ہزار لوگوں نے سفر کیا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً پینتیس ہزار لوگوں نے بس سروس یاپیدل سرحد پارکی ہے۔ پاکستانی ہائی کمیشن میں ایک اعلی افسر تنویر افضل کا کہنا ہے کہ مناباؤ کھوکھرا پار ریل سروس اور پنجاب و کشمیر سے بس سروسز کے شروع ہونے سے لوگوں کی آمد و رفت اضافہ ہوا ہے۔ ’ویزا دینے میں ہم ان کا خیال رکھتے ہیں جو اپنے رشتے داروں سے بچھڑے گئے ہوں۔ اب تجارت کی غرض سے بھی ویزے کا زیادہ مطالبہ ہورہا ہے اور راجستھان سے لوگ زیادہ آتے ہیں۔‘ مسٹر افضل کا کہنا تھا کہ ویزا حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے لیکن جو لوگ کاغذی کروائی صحیح طور پر نہیں کرتے انہیں کچھ مشکلیں ضرور آتی ہیں کیونکہ اصول وضوابط کی پاسداری ضروری ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری امن کے عمل سے عوامی روابط کو فروغ ملا ہے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ زیادہ تر سہولیات سے اثر رسوخ والے افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں اور عوام کو آج بھی طرح طرح کی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ دونوں ممالک نے ویزا فارم حاصل کرنے اور اسے جمع کرنے کے لیئے جو پیچیدہ قوانین بنارکھے ہیں اس سے ویزا حاصل کرنا انتہائی مشکل عمل ہے۔ انہیں پیچیدگیوں کے سبب لاکھوں لوگ آج بھی اپنے قرابت داروں کو ملنے سے محروم ہیں۔ | اسی بارے میں پونچھ سے راولاکوٹ بس سروس کا آغاز 20 June, 2006 | انڈیا دوستی اور بس تو ہے! مسافر نہیں01 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||