BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 June, 2006, 15:25 GMT 20:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوستی اور بس تو ہے! مسافر نہیں

اوسطا فی بس نو یا دس مسافر سفر کرتے ہیں
پاکستان اور ہندوستان میں منقسم پنجاب کو سڑک کے ذریعے جوڑنے والی دونوں دوستی بسیں مسافروں کے بغیر جارہی ہیں اور عملی طور پر دوستی بس تو موجود ہے لیکن مسافر نہیں ہیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اوسطا فی بس نو یا دس مسافر سفر کرتے ہیں اور کئی بار ایسا بھی ہوا کہ پاکستان سے خالی بس گئی اور خالی ہی لوٹ بھی آئی۔

ایک پاکستانی بس کے ڈرائیور غلام یاسین نے کہا کہ ’چھ دفعہ ایسا ہوا کہ مجھے خالی بس چلاکر سرحد پار کرنی پڑی۔‘ بدھ کو بھی یہ بس امرتسر سے صرف تین مسافروں کو لیکر پاکستان پہنچی۔

پاکستان اور ہندوستان کے حکام نے ایک معاہدے کے تحت جنوری میں امرتسر سے لاہور اور مارچ سے امرتسر، ننکانہ صاحب کے درمیان دوالگ الگ بسں سروس شروع کی۔ معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان ان دونوں روٹوں پر ہفتے میں دو دو بار بسیں آتی جاتی ہیں۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم ہوجانے والے پنجاب کے درمیان پہلا سڑک کے راستے بس رابطہ تھا۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک امرتسر اور لاہور کے درمیان پاکستان اوربھارت کی بسوں نے چھیاسٹھ سفر کیے ہیں۔ بسوں کی گنجائش کے مطابق دونوں ملکوں کے پونے تین ہزار مسافروں کو سفرکرنا چاہیے تھالیکن صرف ساڑھے نوسو کے قریب مسافر سفر کرسکےہیں۔

اس سے بری صورتحال امرتسر سے ننکانہ صاحب کے درمیان چلنے والی بسوں کی ہے جہاں ساڑھے گیارہ سو مسافروں کی جگہ ڈیڑھ سو مسافر بھی سفر نہیں کرپائے۔

فیصلہ حکومتوں پر
 پاکستان میں اس بس سروس کے انچارج ارشد علی کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی بار ہمیں خالی بس بھیجنا پڑتی ہے۔ مسافر نہ ہونے کے باوجود ہم بس کو نہیں روکتے کیونکہ یہ دوحکومتوں کا معاملہ ہے اور اس میں نفع یا نقصان کی پرواہ کیے بغیر اس وقت تک بسیں چلائی جاتی رہیں گی جب تک حکومتیں اپنے طور پر کوئی نیا فیصلہ نہیں کرلیتیں۔
پاکستان میں بس سروس کے انچارج ارشد علی
اگرچہ کئی بار امرتسر اور لاہورکے درمیان بھی بس کو کسی بھی مسافر کے بغیرسفر کرنا پڑا تاہم بسوں کے بالکل خالی جانے کے لحاظ سے ننکانہ صاحب کا روٹ کچہ زیادہ ہی بدنصیب ہے۔ ننکانہ صاحب ، دراصل سکھ مذہب کے بانی حضرت بابا گرونانک کی جائے پیدائش بھی ہے۔

پی ٹی ڈی سی لاہور کے انچارج ارشد علی نے کہا ہے کہ جب یہ سروس شروع کی گئی تو ’ہمارا خیال تھا کہ اس پر بےحد زیادہ رش ہوگا کیونکہ یہ بس سروس تو سکھوں کے مقدس ترین مقام تک چلائی گئی تھی لیکن ہوا اس کے برعکس اور ہر آتے وقت کے ساتھ اس کے مسافروں میں کمی ہی ہوتی چلی جارہی ہے۔‘

اور عملی صورتحال یہ ہے کہ ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ پورے ایک مہینے کے دوران امرتسر سے صرف دو مسافروں نے ننکانہ صاحب تک کا سفر کیا۔ انہوں نے کہا کہ’اس کی وجہ صرف اور صرف دونوں ملکوں کی ویزہ پالیسی ہے۔‘

سن انیس سو چوراسی میں ہندوستانی پنجاب میں خالصتان کی تحریک کے زور پکڑ جانے کے بعد سے پاکستانیوں کے لیے ہندوستانی پنجاب کے ویزوں کا اجراء روک دیا گیا تھا۔ یہ پابندی ذرا نرم صورتحال میں آج بھی موجود ہے۔

پاکستانی بس سروس چلانے والے عملے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دوسری طرف پاکستانی ہائی کمیشن ہندوستانیوں کو ویزے تو جاری کر دیتا ہے لیکن اس بس کا ٹکٹ خریدنے کے لیے ہندوستانی حکومت نے پولیس کلیئرنس سرٹیفیکٹ لازمی قرار دے رکھا ہے جسے حاصل کرنے کی بجائے مسافر کسی دوسرے طریقے سے سفر کو ترجیح دیتے ہیں، نتیجہ میں ٹرینیں تو بھری آتی جاتی ہیں لیکن مسافر بس خالی رہتی ہے۔

لاہور دہلی بس سروس میں دوہفتے بعد تک کی نشستیں بک ہیں اور چند لوگ مزید بکنگ کراتے بھی نظر آئےلیکن ایک طرف کے پنجاب سے دوسرے پنجاب تک چلنے والی بس سروس کی حالت بری ہے۔

بکنگ کلرک نے بتایا کہ کل یعنی جمعے کو جو بس لاہور سے امرتسر کے لیے روانہ ہوگی اس کی بھی انتالیس میں سے اکتیس سیٹیں خالی جانے کا امکان ہے کیونکہ جمعرات کو بکنگ کا وقت ختم ہونے تک صرف آٹھ مسافروں نے اس کی ٹکٹ خریدی تھی۔

پاکپتن کے ظفر احمد اور محمد انور نے دہلی تک کے لیے سترہ جون کی ٹکٹیں خریدیں۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے علم نہیں تھا کہ لاہورسے امرتسرتک بس جاتی ہے ورنہ میں پنجاب کی سیر کرتےہوئے آگرہ اوراجمیر شریف تک جاتا۔‘ وہ اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ امرتسر بس سروس پر سفر کے لیے انہیں دہلی اور آگرہ وغیرہ کے علاوہ ہندوستانی پنجاب کا ویزہ بھی لینا پڑتا جس کا ملنا موجودہ حالات میں بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ٹی ڈی سی پی کے حکام امرتسر تک چلنے والی بسوں پر پاکستانی مسافروں میں کمی کی ایک بڑی وجہ پنجاب کا ٹرانزٹ ویزہ نہ ملنا بھی قرار دیتے ہیں۔

جب یہ بس سروس شروع کی گئی تھی تو اس وقت امرتسراور لاہورمیں دونوں ملکوں نے ویزہ کیمپ کھولنے کی بھی بات کی تھی لیکن کیمپ کھلا اورنہ ہی ان بسوں پر سفر کے خواہشمند افراد کے لیے ویزہ کی سہولتوں میں اضافہ ہوا۔

پاکستان میں اس بس سروس کے انچارج ارشد علی کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی بار ہمیں خالی بس بھیجنا پڑتی ہے۔ مسافر نہ ہونے کے باوجود ہم بس کو نہیں روکتے کیونکہ یہ دوحکومتوں کا معاملہ ہے اور اس میں نفع یا نقصان کی پرواہ کیے بغیر اس وقت تک بسیں چلائی جاتی رہیں گی جب تک حکومتیں اپنے طور پر کوئی نیا فیصلہ نہیں کرلیتیں۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد کے ایک طرف ایک ارب لوگ اور دوسری طرف پندرہ کروڑ لوگ رہتے ہیں اور اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والی بسوں میں مسافر دکھائی نہ دینے کی وجہ شہریوں کی عدم دلچسپی نہیں بلکہ بیوروکریسی کا سرخ فیتہ ہے۔

کشمیر بس سروس
ایک سال میں صرف 400 کشمیری سفر کرسکے
جہاں بس چلے گی
سری نگر سے مظفر آباد 183 کلو میٹر
مظفر آباد، بس روانگی کی تیاریاںسرینگر مظفرآباد بس
مظفر آباد سے سرینگر بس سروس، تصاویر میں
اسی بارے میں
لاہور امرتسر بس سروس شروع
20 January, 2006 | پاکستان
امرتسر سے بس لاہور پہنچ گئی
24 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد