BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 January, 2006, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور امرتسر بس سروس شروع

واہگہ پہنچنے پر مسافروں کا استقبال
واہگہ کے راستے لاہور امرتسر بس سروس آج بیس جنوری سے شروع ہوگئی ہے۔ پہلی بس سے آنے والے مسافروں میں معروف گلوکارہ ریشماں بھی موجود تھیں جنہوں نے سرحد پار کرنے پر صحافیوں کو بتایا کہ کہ انہوں نے ہندوستان آنے کے لیے پہلے ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدا تھا لیکن جب انہیں لاہور امرتسر بس کے متعلق پتہ چلا تو انہوں نے بس کے سفر کو ترجیح دی۔

انہوں نے کہا کہ بس کا سفر خوشگوار اور اطمینان بخش تھا۔ جمعہ کی صبح امرتسر کے لیے جانے والی یہ بس جب لاہور سے روانہ ہوئی تو مسافروں میں خوشی کا ماحول تھا۔ کل چھبیس مسافر سوار تھے جن میں دو ہندوستانی شہری بھی تھے۔

ایک خاتون مونیکا ورما نے جو پیدل واہگہ سرحد عبور کرکے لاہور کرکٹ دیکھنے پہنچی تھیں بتایا کہ اس بس سے سفر کرنے پر وہ بہت خوش ہیں۔ ’اچھا لگ رہا ہے کہ ہم بھی اس چیز کا حصہ بنے۔‘ انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ اب سفر لوگوں کے لیے بہت آسان ہوجائے گا۔ ’یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ ایک شہر سے دوسرے شہر میں بس سے چلے جائیں۔‘

پہلی بس کے مسافروں میں جوائنٹ سیکرٹری فردوس علیم سمیت پندرہ پاکستانی اہلکار بھی تھے۔ واہگہ پہنچنے پر مسافروں کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ امرتسر کے میئر سنیل دتی بھی واہگہ پر مسافروں کے خیرمقدم کے لیے موجود تھے۔ ہر طرف لوگوں کے چہروں پر خوشی نظر آرہی تھی اور مسافروں کا ڈھول باجے کی تال پر بھنگرے سے استقبال ہوا۔

طویل بیماری سے نحیف ریشماں کے ساتھ ان کی بیٹی شازیہ بھی امرتسر آئی ہیں۔ وہ دونوں امرتسر سے دلی جائیں گی جہاں خواجہ نظام الدین اولیاء اور خواجہ بختیار کاکی کے مزاروں پر حاضری دیں گی اور وہاں سے راجستھان جائیں گی۔ ریشماں نے بتایا کہ وہ امرتسر میں گولڈن ٹیمپل ضرور جائیں گی تاکہ خدا سے دعا کرسکیں کہ اس نے انہیں ان کے ’سکھ بھائیوں سے ملایا۔‘

پاکستان ٹوارزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن جوبس چلارہی ہے اس کے ڈپٹی منیجر منصور اعظم نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں مسافروں کی تعداد بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بس سے اس لیے کم مسافر جارہے ہیں کہ یہ آنے جانے کا موسم نہیں ہے، اسکول اور کالج کھلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب امرتسر کے لیے ویزے ملنے شروع ہوں گے تو مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ لوگوں کو بھارت کے وزٹ ویزے ملنے ابھی شروع نہیں ہوئے بلکہ ویزے صرف ان لوگوں کو مل رہے ہیں جن کے وہاں پر عزیز رشتے دار رہتے ہیں یا کوئی تجارت ہے۔

امرتسر کے لیے لاہور سے جمعہ کے روز بس چلا کرےگی اور بدھ کے روز واپس ہوگی۔ تقریبا پچاس کلو میٹر کے اس سفر کے لیے سات سو چالیس روپے ہندوستانی اور پاکستانی نو سو روپے کرایہ طے کر دیا گيا ہے۔

امرتسر لاہور سے تقریبا پچاس کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان عوامی رابطے کے لیے یہ تیسری بس سروس ہے۔ دلی لاہور اور مظفّرآباد سری نگر کے درمیان بس سروس پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں
امرتسر سےلاہور، آزمائشی سفر
11 December, 2005 | پاکستان
لاہور امرتسر بس بیس جنوری سے
21 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد