BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 June, 2006, 08:21 GMT 13:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پونچھ سے راولاکوٹ بس سروس کا آغاز

سونیا گاندھی نے لوگوں میں تحائف تقسیم کیئے
سونیا گاندھی نے لوگوں میں تحائف تقسیم کیئے
انڈیا اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دونوں جانب پونچھ اور راولا کوٹ کے درمیان ایک اور بس سروس کا آغاز ہوگیاہے اور منگل کے روز دونوں اطراف کے سے تریسٹھ کشمیریوں نے تری کوٹ سے سرحد عبور کی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے اطلاع دی ہے کہ دونوں جانب سے آنے والی بسیں جب سرحد پر پہنچیں تو پاکستان کی طرف سے جانے والے اکتیس اور انڈیا کی طرف سے آنے والے بتیس مسافروں نے پیدل سرحد عبور کی۔

لائن آف کنٹرول کے پاس چکن دباغ کے مقام پر بس کا افتتاح کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کیا ہے۔


بس کے افتتاح کے بعد محترمہ گاندھی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آنے جانے والوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

’ آگے اسی طرح تجارتی روابط کو بھی فروغ دیا جائے گا۔‘ ایک سوال کے جواب میں سونیا نے کہا کہ ’اس جانب سے لوگ میری طرف سے پیار کا پیغام لیکر گئے ہیں اور دوسری جانب سے بھی یہی ہورہا ہے۔‘

افتتاحی پروگرام پہلے پونچھ میں طے تھا لیکن سیکیورٹی کی وجوہات کے سبب

سونیاگاندھی
’اس جانب سے لوگ میری طرف سے پیار کا پیغام لیکر گئے ہیں اور دوسری جانب سے بھی یہی ہورہا ہے۔‘
سونیاگاندھی کو چکن دباغ پوائنٹ جاناپڑاہے۔ محترمہ گاندھی کے ساتھ وزیردفاع پرنب مکھرجی اور ریاست کے وزیراعلی غلام نبی آزاد بھی تھے۔

پونچھ کے مقام سے بس مسافروں کولائن آف کنٹرول کے پاس چکن دباغ تک لائےگی اور وہاں سے لوگ پیدل سرحد پار کرکے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر جائیں گے۔

پہلی بس میں تقریباً تیس مسافر سوار تھے اور لوگوں میں زبردست جوش وخروش تھا۔

کشمیر میں ٹرک سروس شروع کرنے کی بھی تجویز ہے

سرینگر مظفرآباد بس سروس کے بعد لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف چلنے والی یہ دوسری بس سروس ہے۔ پونچھ ‎‎شہر سے چکن د باغ تک سڑک کی لمبائی تیرہ کلومیٹر ہے اور وہاں سے مزید ایک کلومیٹر کے فاصلے پر لائن آف کنٹرول واقع ہے۔

بس سروس شروع کرنے کی غرض سے اس روڈ کی مرمت کافی عرصہ سے جاری تھی۔ تاریخی پونچھ۔ راولاکوٹ روڈ تقسیم کے بعد سنہ سینتالیس میں بند کر دیا گیا تھا۔ اس سڑک کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک جنگ میں خاصا نقصان بھی پہنچا تھا۔

کمان پوسٹبس کا انتظار
کشمیربس کےلئے سرحدی علاقوں میں تیاریاں
کشمیر بس سروس
ایک سال میں صرف 400 کشمیری سفر کرسکے
فائل فوٹو’فلاپ ڈرامہ؟‘
ایل او سی کھولنے سے فائدہ کیا ہوا؟
کشمیر اور آٹونامی
خودمختاری کو کھوکھلا کردیا گیا: عمرعبداللہ
کشمیرزندگی ہی بدل گئی
کشمیر میں زندگی کے رنگ پھیکے پڑ گئے
کشمیر کانفرنس
وزیراعظم منموہن سنگھ نے کیا کہا
اسی بارے میں
دوسری بس سروس: آج سے آغاز
19 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد