BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 June, 2006, 07:37 GMT 12:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پونچھ راولاکوٹ روڈ پر کام مکمل

سرینگر مظفرآباد بس سروس کے بعد لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف چلنے والی یہ دوسری بس سروس ہوگی۔
انیس جون سے شروع ہونے والی پونچھ راولاکوٹ بس سروس کے لیے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سڑک کھولنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پونچھ۔ راولکوٹ سڑک بنانے کا کام مکمل ہو چکا ہے اور لائن آف کنٹرول کے آس پاس بعض عمارتوں کی تعمیر کا کام بھی تقریبا پوراہوگیا ہے۔

پونچھ کے ڈپٹی کمشنرمحمد رمضان ٹھاکر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پونچھ سے چکن د باغ تک سڑک کی مرمت کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ ’سڑک بنانے کا کام باڈر روڈ آرگنائزیشن کے ذمہ تھا اور روڈ بننے کے ساتھ ساتھ اس پر بلیک ٹاپنگ بھی کی جا چکی ہے۔‘

سرینگر مظفرآباد بس سروس کے بعد لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف چلنے والی یہ دوسری بس سروس ہوگی۔

پونچھ ‎‎شہر سے چکن د باغ تک سڑک کی لمبائی تیرہ کلومیٹر ہے اور وہاں سے مزید ایک کلومیٹر کے فاصلے پر لائن آف کنٹرول واقع ہے۔

مسٹر رمضان کے مطابق پیر پنچال کی وادیوں سے گزرنے والی اس سڑک کے آس پاس سے بارودی سرنگیں ہٹا دی گئي ہیں اور اسے عام گاڑیوں کے قابل بنایا گیا ہے۔

تاریخی پونچھ۔ راولاکوٹ روڈ تقسیم کے بعد سنہ سینتالیس میں بند کر دی گئی تھی۔ اس سڑک کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک جنگ میں خاصا نقصان بھی پہنچا تھا۔

ایک سو پچھہتر
 لائن آف کنٹرول کھلنے کے بعد سرکاری اعداد وشمار کے مطابق چکن د باغ پوائنٹ سے تقریبا 175 افراد دوسری جانب سے اپنے رشتہ داروں سے مل پائے ہیں

اس خطے میں گزشتہ برس کے تباہ کن زلزلے کے بعد چکن د با‏غ کے مقام پرلائن آف کنٹرول کو کھولا گیا تھا تاکہ متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔ لائن آف کنٹرول کھلنے کے بعد سرکاری اعداد وشمار کے مطابق چکن د باغ پوائنٹ سے تقریبا 175 افراد دوسری جانب سے اپنے رشتہ داروں سے مل پائے ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ‏‏‌غلام نبی آزاد نے حال ہی میں اس ‎‎سڑک کا معائنہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ سری نگر مظفر آباد بس سروس کی طرح اس ررڈ پر بھی مہینے میں دو بار بس چلے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بعد میں اسے ہفتہ وار بھی کیا جا سکتا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ انیس جون کو بھارت کے وزیر عظم منموہن سنگھ خود اس بس سروس کا افتتاح کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد