’زندگی کے پھیکے رنگ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ ہر طرف پر سکون خاموشی ہوتی۔ ہم چاندنی راتوں میں کھیتوں میں جاتے اور فصل کاٹتے تھے۔ لڑکیاں گروہوں میں گاتیں اور چولہے پر قہوہ ابلتا تھا‘ کنٹرول لائن کے قریبی گاؤں ترہگام کے غلام رسول بٹ اسّی کے عشرے کے اپنے گاؤں کو یاد کرتے کرتے جذباتی ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ انیس سو نواسی میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی منقطع ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں’اب وہ بات کہاں، اب گھر پہنچنا ایک آزمائش ہوتی ہے، ہر جگہ فوجی کیمپ اور گشتی پارٹی کا سامنا ہے ۔ رات میں گھومنے کا تو سوال ہی نہیں۔ شام ہوتے ہی گھر میں قید ہو جاتے ہیں‘۔ ہندوستان کے زیرِانتظام جموں کشمیر میں پچھلے سترہ سال سے جاری غیر یقینی اور عدم تحفظ کی صورتحال نے عام زندگی کو دفتری اوقات کے بیچ قید کر دیا ہے۔ علی الصبح اور رات گئے تک تجارتی و زرعی سرگرمیاں محض ایک یاد بن کر رہ گئی ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ قانون کے پروفیسر شوکت حسین کہتے ہیں کہ عسکری تحریک شروع ہونے کے بعد جب کشمیر کو انڈین قانون کے مطابق ’ڈسٹربڈ‘یعنی گڑبڑ والا علاقہ قرار دیا گیا تو عوامی زندگی سکڑ گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ’حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ زندگی دفتری ٹائم ٹیبل کی طرح ہو گئی ہے۔ آپ ملازم ہوں یا تاجر ، گھر سے باہر صرف دس سے چار یا پانچ بجے تک رہنا ہے‘۔ صورتحال پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ محدود اوقات کار کی وجہ سے دیہات میں زراعت اور شہروں میں تجارت حد درجہ متاثر ہوئی ہے۔
وادی میں تعینات انڈین آرمی نے حال ہی میں اخباری اشتہارات کے ذریعہ لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ رات کے دوران غیرضروری نقل و حرکت سے پرہیز کریں۔اشتہار میں بتایا گیا کہ اگر کسی ہنگامی ضرورت کی حالت میں باہر جانا پڑے تو لالٹین ہاتھ میں رکھیں۔ شہر کے مرکزی بازار لال چوک میں پچھلے پچیس برسوں سے پان بیچنے والے خضر محمد نے اسّی کے عشرے میں رات کے دو بجے بھی پان بیچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ پلیڈئم سنیما میں رات کا شو ختم ہونے والا تھا ۔ سڑک پر اکّا دکّا گاڑیاں چل رہیں تھیں۔ انگریز سیاحوں کی کچھ ٹولیاں ڈرائی فروٹ کی دکان پر خریداری میں مصروف تھیں۔ یہ انیس سو چھیاسی کی بات ہے۔ آج تو آپ دیکھتے ہیں کہ کیا حالات ہیں‘۔ اسی پلیڈئم سنیما کی خاکستر عمارت میں آج ہندوستانی نیم فوجی دستے کا کیمپ ہے۔ چوک کے اردگرد تین سوگز کا رقبہ حساس مانا جاتا ہے اور راہگیر قریب جانے سے کتراتے ہیں۔ عام کشمیریوں کو سب سے زیادہ افسوس شادی بیاہ سے جڑی ان روایتی سرگرمیوں کے خاتمے کا ہے جن کا براہِ راست تعلق رات کے ساتھ ہے۔ سرینگر میں ڈاؤن ٹاؤن کے رہنے والے محمد صدیق میر انیس سو بانوے میں ہونے والی اپنے بڑے بیٹے کی شادی کا ذکر یوں کرتے ہیں۔’جب میرے چھوٹے بھائی کی شادی ہوئی تھی تو پورا علاقہ جھوم اٹھا تھا۔ ہر طرف قہقہے تھے۔ بچوں کا شور پٹاخے اور ون ون (عورتوں کا لوک گیت) لیکن بیٹوں کی شادی بے مزہ تھی۔ دن کے دو بجے بارات گئی نہ پٹاخے نہ پھلجھڑیاں اور نہ رات کی خاموشی میں ون ون کی گونج‘۔
سماجی امور کے ماہرپروفیسر بشیر ڈابلا اس صورتحال کو ’ کلچرل کرائسس‘ کہتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ’نئی پود کشمیری ثقافت کے اصل ’عطر‘ سے محروم رہی‘۔ ڈاکٹر بشیر کہتے ہیں’معمول کے حالات میں ہر طرح کی’ کلچرل ایکٹیوٹی‘ میں نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کی شرکت ہوتی تھی، لیکن جو بچے انیس سو نواسی یا اس کے بعد پیدا ہوئے وہ آج ان باتوں کے بارے میں سنتے ضرور ہیں مگر محسوس نہیں کر سکتے‘۔ ڈاکٹر بشیر کے مطابق کشمیر میں سکیورٹی کے حالات کی وجہ سے ہر شہری کے لیئے ایک’ڈیڈ لائن‘ہوتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جلدی گھر بھاگنے کی مجبوری نے سماج میں انفرادیت پیدا کر دی ہے جس میں معاشرتی رشتے کمزور ہوئے ہیں۔ ریاست کے وزیرِاعلی غلام نبی آزاد انسداد عسکریت سے متعلق’یونیفائڈ کمانڈ‘ کے سربراہ بھی ہیں۔ مسٹر آزاد نے اس صورتحال کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ وادی میں سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیئے کئی مرتبہ پابندیاں عائد کرنی پڑتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ’فوج کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ عام زندگی متاثر نہ ہونے پائے‘۔ انسانی حقوق کے لئے سرگرم متعدد تنظیموں کے اتحاد کے سربراہ پرویز امروز کے مطابق یہ ایک’جنگی‘صورتحال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’حد تو یہ ہے کہ ہمارے لیئے یہ بھی ممکن نہیں کہ حساس حلقوں کو جمع کر کے اس معاملے پر غور کریں۔ پرامن حالات میں سماجی مسائل پر بحث دفتری اوقات کار کے بعد ہی ہوتی ہے لیکن یہاں تو دفتر سے نکلے تو سیدھے گھر جانے کی مجبوری۔ شہر میں پھر بھی آسانی ہے لیکن دیہات تو قید خانہ بن گئے ہیں‘۔ | اسی بارے میں مسئلہ کشمیر: آئر لینڈ کےماڈل پرغور15 June, 2006 | انڈیا کشمیر: اسکولوں میں موبائل نہیں15 June, 2006 | انڈیا وادی میں ہڑتال، عام زندگی متاثر13 June, 2006 | انڈیا ’سچائی میری طاقت اورہتھیار ہے‘10 June, 2006 | انڈیا ’بہت دکھ کی بات ہے، وطن سے جانا‘05 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||