دھماکہ: کشمیری خاتون بھی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی اور لاہور کے درمیان چلنے والی ریل گاڑی سمجھوتہ ایکسپریس پر ہوئے بارودی حملے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے چھیاسٹھ مسافروں میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک اننچاس سالہ خاتون، یاسمینہ بھی شامل ہیں۔ زعفران کی کاشت کے لیے دنیا بھر میں مشہور کشمیر کے جنوبی قصبہ پانپور میں واقع یاسمینہ کے گھر میں کہرام مچ گیا جب اس کے بہنوئی ظہور احمد نے نئی دلّی میں مقیم یاسمینہ کے خاوند محمد مقبول قریشی کے ساتھ فون پر بات کر کے یاسمینہ کی موت کی تصدیق کر دی۔ نئی دلّی میں سمجھوتہ ایکسپریس میں سوار ہونے تک مقبول یاسمینہ کے ساتھ تھے۔ یاسمینہ کی 65 سالہ ماں حلیمہ کی آنکھوں سے آنسوں نہیں بہے لیکن رنج میں ڈوبی اس کی نحیف آواز اس تکلیف کی عکاسی کر رہی تھیں جو کشمیر میں ان والدین کو پیش آتی ہے جنہیں اپنی اولا د کا جنازہ دیکھنا پڑتا ہے۔
حلیمہ کے مطابق یاسمینہ کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا پچھلے پندرہ سال سے پاکستان میں رہتے ہیں، جہاں ان کی شادیاں یاسمینہ کے خاوند محمد مقبول قریشی کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ہوئی ہیں۔ قریشی کے یہ رشتہ دار دراصل اُنیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے تھے۔ یاسمینہ نے اپنی بیٹیوں شیبا، شبنم اور بیٹے ندیم قریشی اور ان کے بچوں کو آخری بار سات سال قبل دیکھا تھا۔ یاسمینہ کے رشتہ داروں کے مطابق ان کے بچوں کا ویزا کافی کوششوں کے بعد آئندہ مئی میں طے تھا۔ حلیمہ نے خالص کشمیری میں کہا کہ، ’بیچاری کو اپنے بچوں کا منہ دیکھنا بھی نصیب نہ تھا۔‘ یاسمینہ کی بیٹیاں راولپنڈی جبکہ ان کا بیٹا ندیم کراچی میں اپنے عیال کے ساتھ پچھلی ڈیڑھ دہائی سے رہ رہے تھے۔ یاسمینہ کی ماں حلیمہ اور بہنوئی ظہور احمد کو اس بات کا بے حد افسوس ہے کہ سرینگرمظفرآباد بس کے ذریعے سفر کرنے کا اس کا ارمان پورا نہ ہوسکا۔ ظہور کہتے ہیں، ’یاسمینہ نے تین مرتبہ درخواست دی ، لیکن اسے بس کے ذریعے سفر کی اجازت نہ ملی۔‘ حلیمہ نے لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ،’اگر یاسمیہ اس بار بس میں ہی جا پاتی تو شائد یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔‘ مقبول قریشی نے نئی دلّی سے فون پر بتایا کہ یاسمینہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہورہا ہے اور اس کی میت کو منگل کے روز سرینگر پہنچائے جانے کا امکان ہے۔ |
اسی بارے میں ٹرین دھماکہ، زخمیوں کی ابتدائی فہرست19 February, 2007 | پاکستان امن مذاکرات جاری رہیں گے: پاکستان19 February, 2007 | پاکستان لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||