BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 February, 2007, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکہ: کشمیری خاتون بھی ہلاک

یاسمینہ
یاسمینہ اپنے تین بچوں سے ملنے پاکستان جا رہی تھیں
دلی اور لاہور کے درمیان چلنے والی ریل گاڑی سمجھوتہ ایکسپریس پر ہوئے بارودی حملے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے چھیاسٹھ مسافروں میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک اننچاس سالہ خاتون، یاسمینہ بھی شامل ہیں۔

زعفران کی کاشت کے لیے دنیا بھر میں مشہور کشمیر کے جنوبی قصبہ پانپور میں واقع یاسمینہ کے گھر میں کہرام مچ گیا جب اس کے بہنوئی ظہور احمد نے نئی دلّی میں مقیم یاسمینہ کے خاوند محمد مقبول قریشی کے ساتھ فون پر بات کر کے یاسمینہ کی موت کی تصدیق کر دی۔ نئی دلّی میں سمجھوتہ ایکسپریس میں سوار ہونے تک مقبول یاسمینہ کے ساتھ تھے۔

یاسمینہ کی 65 سالہ ماں حلیمہ کی آنکھوں سے آنسوں نہیں بہے لیکن رنج میں ڈوبی اس کی نحیف آواز اس تکلیف کی عکاسی کر رہی تھیں جو کشمیر میں ان والدین کو پیش آتی ہے جنہیں اپنی اولا د کا جنازہ دیکھنا پڑتا ہے۔

یاسمینہ کی والدہ حلیمہ

حلیمہ کے مطابق یاسمینہ کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا پچھلے پندرہ سال سے پاکستان میں رہتے ہیں، جہاں ان کی شادیاں یاسمینہ کے خاوند محمد مقبول قریشی کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ہوئی ہیں۔ قریشی کے یہ رشتہ دار دراصل اُنیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے تھے۔ یاسمینہ نے اپنی بیٹیوں شیبا، شبنم اور بیٹے ندیم قریشی اور ان کے بچوں کو آخری بار سات سال قبل دیکھا تھا۔

 یاسمینہ کی ماں حلیمہ اور بہنوئی ظہور احمد کو اس بات کا بے حد افسوس ہے کہ سرینگرمظفرآباد بس کے ذریعے سفر کرنے کا اس کا ارمان پورا نہ ہوسکا۔ ظہور کہتے ہیں، ’یاسمینہ نے تین مرتبہ درخواست دی ، لیکن اسے بس کے ذریعے سفر کی اجازت نہ ملی۔‘ حلیمہ نے لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ،’اگر یاسمیہ اس بار بس میں ہی جا پاتی تو شائد یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

یاسمینہ کے رشتہ داروں کے مطابق ان کے بچوں کا ویزا کافی کوششوں کے بعد آئندہ مئی میں طے تھا۔ حلیمہ نے خالص کشمیری میں کہا کہ، ’بیچاری کو اپنے بچوں کا منہ دیکھنا بھی نصیب نہ تھا۔‘

یاسمینہ کی بیٹیاں راولپنڈی جبکہ ان کا بیٹا ندیم کراچی میں اپنے عیال کے ساتھ پچھلی ڈیڑھ دہائی سے رہ رہے تھے۔

یاسمینہ کی ماں حلیمہ اور بہنوئی ظہور احمد کو اس بات کا بے حد افسوس ہے کہ سرینگرمظفرآباد بس کے ذریعے سفر کرنے کا اس کا ارمان پورا نہ ہوسکا۔ ظہور کہتے ہیں، ’یاسمینہ نے تین مرتبہ درخواست دی ، لیکن اسے بس کے ذریعے سفر کی اجازت نہ ملی۔‘ حلیمہ نے لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ،’اگر یاسمیہ اس بار بس میں ہی جا پاتی تو شائد یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔‘

مقبول قریشی نے نئی دلّی سے فون پر بتایا کہ یاسمینہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہورہا ہے اور اس کی میت کو منگل کے روز سرینگر پہنچائے جانے کا امکان ہے۔

جلے ہوئے کنگن
لائن پر جلے ہوئے بکسے اور لوگوں کی چپلیں
متاثرینمسافروں کی فہرست
خیریت سے سرحد پہنچنے والوں کی فہرست
سمجھوتہ ایکسپریسآپ کیا کہتے ہیں؟
سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے
اسی بارے میں
لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین
19 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد