امن مذاکرات جاری رہیں گے: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں پانی پت کے علاقے میں دو دھماکے ہوئے جس میں کم از کم چھیاسٹھ لوگ ہلاک ہوگئے۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ امن کے مخالفوں کو دہشتگردی کے ذریعے مذاکرات کے عمل میں روکاٹیں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات امن قائم کرنے کی ضرورت کو زیادہ شدت سے یاد دلاتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ امن مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور وہ منگل کے روز بھارت کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو امن مخالف عناصر کو زیادہ مضبوط ارادے سے نمٹنا ہو گا اور دہشت گردی کے ذریعے امن مذاکرات کو تباہ نہیں ہونے دینا چاہیے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ دھماکہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ان کا دورہ بھارت نزدیک آ چکا ہے۔’میں مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے منگل کے روز دلی جا رہا ہوں اور دونوں ملکوں کو ایسے امن مخالف عناصر کو امن کی راہ روکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے‘۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کو امن مذاکرات کے سلسلے کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’کسی مذہب یا نظریے کی بنیاد پر ایسے واقعات کی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘ | اسی بارے میں ٹرین میں تخریب کاری: 66 ہلاک19 February, 2007 | انڈیا لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان ’دھماکوں کی تحقیقات کرائیں‘19 February, 2007 | پاکستان فون ہیلپ لائن، ویزا کی سہولت19 February, 2007 | پاکستان ’سمجھوتہ ایکسپریس تخریب کاری کا نشانہ‘19 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||