جلی ہوئی چوڑیاں اور کنگن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں جس وقت صبح پانچ بجے شیوا گاؤں کی ریلوے کراسنگ پر پہنچا اس وقت تک سمجھوتہ ایکسپریس کے دو جلے ہوئے ڈبوں کے ڈھانچے کھڑے تھے۔ فضا ميں جلے ہوئے ڈبوں کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ لاشیں نکالنے کا کام جاری تھا۔ بیشتر لاشیں بری طرح جل چکی تھیں۔ ایک ڈبہ اتنی بری طرح جل چکا تھا کہ اس میں لاشیں ایک دوسرے سے جڑگئی تھیں۔ روشنی کے لیے بڑی بڑی فلیش روشنیاں لگائی گئی تھیں۔ لاشوں میں بچوں کی لاشیں بہت واضح تھیں۔ کچھ تو ایسی تھیں کہ جیسے وہ سونے سے اٹھ بھی نہیں پائے ہوں۔
ریلوے ٹریک پرچند ایک بکسے پڑے ہوئے تھے۔ بکسوں میں بھی سب کچھ جلا ہوا تھا لیکن ایک بکسے میں بہت ساری چوڑیاں اور کگن نمایاں تھے۔ چوڑیاں ایک لائن میں بہت سجا کر رکھی گئی تھیں۔ موقع وماحول دیکھ کر وہاں سے دونوں جلی ہوئی بوگیاں ہٹا دی گئیں تھیں۔ آمد ورفت معمول پر آچکی تھی۔ اس ٹریک پر گزرنے والی ٹرینوں کے مسافروں کو شاید یہ پتہ بھی نہ ہوکہ وہاں چند گھنٹے قبل کیسی خونریزی ہوئی ہے۔ نصف شب میں اس واقعہ کے رونما ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ یہ حادثہ نہیں تخریب کاری کی کارروائی ہے۔ مسافروں کی لاشیں رفتہ رفتہ پانی پت کے سول ہسپتال پہنچائی جا چکی تھیں۔وہاں کم از کم 67 لاشیں تھیں۔ ان کے لیے لکڑی کے تابوت منگائے گئے۔ لاشوں کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے سینکڑوں برف کی سلیں رکھی گئی تھیں۔ انہیں ہسپتال کے دو مخصوص کمروں میں رکھا گیا تھا۔ ان سبھی کے نام تھے، یہ بھی کہ کس کے رشتے دار تھے، کوئی باپ تھا تو کوئی بیٹا بیٹی یا بیوی یا پھر ماں۔ لاشیں اتنی جل چکی تھیں کہ انہیں پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔ اس لیے ان لاشوں کو نمبر دیئے گئے تھے اکتالیس، بیالیس ۔۔۔ خبر سن کر بہت سے لوگ اپنے رشتے داروں کی تلاش میں دور دراز سے پانی پت پہنچ رہے تھے۔ لیکن وہ کس کی شناخت کرتے۔ان سے کوچ کا نمبر پوچھا جاتا تھا اور اگر وہ دونوں جلے ہوئے کوچوں کے نمبر ہوتے تھے تو انہیں بتایا جاتا کہ وہ زندہ نہیں بچے۔ تقریباً 18 افراد کے زندہ ہونے کی خبر ہے۔ ان میں بیشتر پاکستانی شہری تھے جو ہندوستان میں اپنی ملاقاتیں مکمل کر کے اپنی یادوں کے ساتھ واپس وطن جارہے تھے۔ زخمیوں کو علاج کے لیےدلی بھیج دیا گیا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے بچے ہوئے 527 مسافرورں کو ایک دوسری ٹرین سے انبالہ سے اٹاری کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے جلے ہوئے ڈبے کی جگہ ٹریک پر کچھ ٹوٹی پھوٹی چپلیں اور کچھ جلے ہوئے کپڑوں کے نشان باقی ہیں۔ پانی پت کی فضا بوجھل ہے۔ | اسی بارے میں ’لوگ جلتے ڈبوں سےکود رہے تھے‘19 February, 2007 | انڈیا واقعہ تشویش کی بات ہے: لالو19 February, 2007 | انڈیا ٹرین میں تخریب کاری: 66 ہلاک19 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||