’لوگ جلتے ڈبوں سےکود رہے تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں اتوار کی رات دھماکوں کے بعد آتشزدگی سے کم از کم 66 افراد ہلاک ہوئے ہیں یہ واقعہ رات تقریباً بارہ بجےشوا گاؤں سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع دیوانہ علاقہ میں پیش آیا۔ اس واقعے میں مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں اور لاشوں کو پانی پت بھیج دیا گیا ہے جہاں سے ان لاشوں کو تابوتوں میں بند کرے پاکستان منتقل کیا جائےگا۔ ٹرین میں دھماکوں کے حوالے سے پانی پت میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار شکیل اختر نے اس واقعے کے چند عینی شاہدین سے بات کی۔ وہاں موجود دربان نے بتایا’ سب سے پہلے میں نے دھماکے کی آواز سنی اور دیکھا کہ ٹرین میں آگ لگی ہوئي ہے‘۔ اس منظر کو یاد کرتے ہوئے شوا گاؤں کی ریلوے کراسنگ کے ایک اہلکار اشوک کمار کا کہنا تھا کہ’جب میں نے ٹرین کو دیکھا تو پوری ٹرین جل رہی تھی اور چاروں طرف افراتفری کا ماحول تھا۔ لوگ آگ سے اپنی جان بچا کر جلتی ہوئی ٹرین کے ڈبوں سے باہر کود رہے تھے۔ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے؟ بس یہ لگ رہا تھا کہ جیسے ہر طرف آگ لگ گئی ہو‘۔
ایک پاکستانی مسافر قمر الدین نے بتایا’مجھے پتہ نہیں کہ میں جلتی ہوئی ٹرین سے باہر کیسے نکلا۔ شاید مجھے کسی نے دھکا دیا یا پھر مجھے کسی نے کھینچا۔ میرے ہوش و حواس اڑے ہوئے تھے اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ہاں بس اتنا پتہ ہے کہ میں زندہ ہوں‘۔ ٹرین میں آتشزدگی کے بعد موقع پر پہنچنے والے مقامی باشندوں کا کہنا تھا کہ’رات کافی ہو چکی تھی اور اندھیرا بھی ہوگيا تھا۔ لوگوں کی چیخ و پکار سن کر کئی گاؤں والے بھاگ کر وہاں پہنچے۔ بعض اپنے گھروں سے بالٹیوں میں پانی بھر بھر کر لائے اور آگ بجھانے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن آگ اس قدر شدید تھی کہ اس کا کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا۔ کئی لوگوں کو جلتی ہوئی ٹرین کے دروازے سے کودتے ہوئے بھی دیکھا گیا‘۔ | اسی بارے میں سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے: 66 ہلاک18 February, 2007 | پاکستان ’دھماکوں کی تحقیقات کرائیں‘19 February, 2007 | پاکستان واقعہ تشویش کی بات ہے: لالو19 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||