کشمیر پرگول میز کانفرنس شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کے سوال پر دلی میں تیسری راونڈ ٹیبل بات چیت شروع ہوگئی ہے، تاہم ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی تمام علیحدگی پسند جماعتیں ان مذاکرات میں حصہ نہيں لے رہی ہیں۔ دو روزہ کانفرنس وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر ہو رہی ہے اور وزیر داخلہ شیوراج پاٹل کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی بھارت نوازسیاسی جماعتوں کے رہنما حصہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ برس مئی میں ہونے والی راونڈ ٹیبل کانفرنس میں وزیر اعظم نے پانچ ورکنگ گروپ تشکیل دییے تھے۔ ان گروپوں نے اپنی رپورٹیں وزیراعظم کو سونپ دی ہیں، آج کی بات چیت میں ان گروپوں کی سفارشات پر صلاح مشورہ کیا جائے گا۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اس کانفرنس میں کشمیر میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے بچوں کی آباد کاری کا اعلان کریں گے ۔ وزرات داخلہ کی طرف سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ حکومت ان نوجوانوں کی واپسی کے لیے راہ ہموار کرے گی جو گزشتہ سترہ برسوں کی شورش کے دواران کنٹرول لائن عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلے گئے تھے۔ کشمیری علیحدگی پسند تنظیموں نے روانڈ ٹیبل مذاکرات کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کیا ہے'' اس میں کوئی کارآمد بات چیت نہيں ہورہی ہے اور دراصل یہ ہندنواز سیاسی جماعتوں کا میلہ ہے''۔ جموں کشمیر کے وزیر اعلی غلام بنی آزاد نے ا س نامہ نگار سے ایک غیر رسمی بات چيت میں یہ بتایا کہ کانفرنس میں کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرنے کے سوال پر کوئی بات چیت نہيں ہوگی۔ ریاست سے موصول ہونے والے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یکم جنوری سے سولہ اپریل تک ساڑھے تین مہینے کے عرصے ميں شدت پسندی کے دوسو اکہتر واقعات ہوئے ہيں۔ گزشتہ برس اس مدت میں تین سو اسّی واقعات ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں کشمیرگول میز 24 اپریل کو ہو گی14 April, 2007 | انڈیا حزب المجاہدین بات چیت کے راضی 06 April, 2007 | انڈیا مفتی: حکومتی اتحاد سے علیحدگی؟18 March, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||