BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 March, 2007, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مفتی: حکومتی اتحاد سے علیحدگی؟

مفتی سعید (بائیں) کی نظر آئندہ انتخابات پر ہے
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کشمیر سے فوج کے انخلاء کی جو تجویز رکھی ہے اس پر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکمراں اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی پی ڈی پی یعنی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی حکومت سے الگ ہونے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ تاہم اس سے حکومت کی سلامتی پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پی ڈی پی نے گزشتہ دنوں مطالبہ کیا تھا کہ ’فوجی انخلاء اور فوج کے اختیارات کو کم کرنے کے معاملے پر ریاستی کابینہ میں غور کیا جائے۔‘ حکمراں جماعت کانگریس کے انکار کرنے پر پی ڈی پی سے تعلق رکھنے والے وزراء نے اب تک تین بار کابینہ کی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے۔

گزشتہ جمعرات کو وزیراعظم منموہن سنگھ نے مفتی محمد سعید کے ایک خط کے جواب میں واضح کیا ہے کہ جموں اور کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرنے کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔

وزیراعظم نے اپنے جوابی خط میں خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کا حوالہ دیا کہ موسمِ بہار ميں جموں و کشمیر کنٹرول لائن پر پھر سے دراندازی ہو سکتی ہے اور ریاست میں علیحدگی پسند تشدد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ وزیراعظم نے آئندہ موسم گرما میں سلامتی کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کا وعدہ کیا۔

پی ڈی پی حکومت سے باہر؟
 پی ڈی پی نے وزیراعظم کے جواب کے بعد اپنے آئندہ کی حکمتِ عملی وضع کرنے کے لیے 25 مارچ کو پارٹی کی میٹنگ طلب کی ہے۔ اگر پی ڈی پی حکومت سے الگ ہوجاتی ہے تو بھی غلام نبی آزاد کی قیادت میں قائم حکومت کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا کیوں کہ حزب اختلاف کی پارٹی نیشنل کانفرنس حکومت کو گرنے نہیں دے گی۔
پی ڈی پی نے وزیراعظم کے جواب کے بعد اپنے آئندہ کی حکمتِ عملی وضع کرنے کے لیے 25 مارچ کو پارٹی کی میٹنگ طلب کی ہے۔ اگر پی ڈی پی حکومت سے الگ ہوجاتی ہے تو بھی غلام نبی آزاد کی قیادت میں قائم حکومت کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا کیوں کہ حزب اختلاف کی پارٹی نیشنل کانفرنس حکومت کو گرنے نہیں دے گی۔

نیشنل کانفرنس کے رہمنا مفتی محمد سعید سے کئی باتوں کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اسی کے پیش نظر پی ڈی پی میں کئی لوگوں کی رائے ہے کہ ان کی پارٹی کے حکومت سے الگ ہوجانے کے بعد بھی مسٹر آزاد کی وزارت کو باہر سے حمایت کرنی چا ہیے تاکہ نیشنل کانفرنس کا اثر و رسوخ نہ بڑھے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مفتی محمد سعید فوجوں کی واپسی کے مطالبہ پر کانگریس کے ساتھ ٹکر اس لیے لے رہے ہیں کیوں کہ پی ڈي پی کی نظریں آئندہ اسمبلی انتخاب پر لگی ہوئی ہیں۔

سیاسی مبصر رشید احمد کے مطابق مفتی سعید نےگزشتہ 2002 کا انتخاب نیم علیحدگی پسندانہ ایشوز پر لڑی تھی لیکن اس بار مسٹر سعید ان ایشوز پر انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے کیوں کہ عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ انہوں نے پچھلے انتخابات میں جو بڑے بڑے وعدے کیے تھے ان کو پورے نہیں کیے ہیں۔

رشید احمد یاد دلاتے ہیں کہ ’مفتی محمد سعیدنے اپنے دورِ اقتدار ميں اعلان کیا تھا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیے بدنام پولیس کے خصوصی ٹاسک فورس کو ختم کیا گیا ہے لیکن اب عام آدمی کو بھی پتہ چلا ہے کہ وہ خصوصی فورس آج بھی ریاست میں موجود ہے اور اس کے اہلکاروں نے کئی شہریوں کوفرضی چھڑپ میں مار ڈالا ہے۔‘

مفتی سعید: نئے ایشوز کی تلاش
 مفتی سعید نےگزشتہ 2002 کا انتخاب نیم علیحدگی پسندانہ ایشوز پر لڑی تھی لیکن اس بار مسٹر سعید ان ایشوز پر انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے کیوں کہ عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ انہوں نے پچھلے انتخابات میں جو بڑے بڑے وعدے کیے تھے ان کو پورے نہیں کیے ہیں۔
کئی حلقوں میں جس میں علیحدگی پسند حلقہ بھی شامل ہے، یہ رائے پائي جاتی ہے کہ مفتی سعید کو اس کا علم ہوگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوجوں کی واپیسی کے بارے میں اصولی طور پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ مفتی سعید اسے اپنی جانب سے مطالبہ کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مفتی سعید نے فوجی انخلاء کا جو مطالبہ کیا ہے اس پر علیحدگی پسند قیادت بھی ناخوش ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کےسربراہ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے مفتی سعید کے اس سیاسی قدم کو کمزور کرنے کے لیے یہ انکشاف کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوج کے انخلاء پر اتفاق ہوگیا ہے اور صرف اس پر عمل کر نا باقی ہے۔

ہندوستان کے وزیراعظم نے میر واعظ کے اس بیان کی تردید کی تھی تاہم میر واعظ اب بھی اس بات پر قائم ہيں کہ فوج کے انخلاء کے معاملے پر ہندو پاک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

کشمیرکشمیر: کتنے ہلاک؟
سترہ برسوں میں کتنے ہلاک، متضاد دعوے
احتجاجفرضی جھڑپ اورقتل
ڈی این اے رپورٹ سے ثبوت بھی مل گئے
پروفیسر بٹملاقاتوں کا موسم
کشمیر کے حل کے لیے سرگرمیاں تیز
مسئلہ کشمیر کا حل
’متفقہ اور مشترکہ نظام تشکیل دینا ہوگا‘
میر واعظ کا اعلان
’کشمیر کے متبادل حل کے لیے ہر خطرہ قبول‘
دیکھیے’فرضی تصادم‘
’فر ضی تصادم‘ پر انڈین کشمیر میں احتجاجی مظاہرے
مظاہرہاحتجاجی مظاہرہ
انڈین کشمیر میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا مظاہرہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد