مفتی: حکومتی اتحاد سے علیحدگی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کشمیر سے فوج کے انخلاء کی جو تجویز رکھی ہے اس پر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکمراں اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی پی ڈی پی یعنی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی حکومت سے الگ ہونے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ تاہم اس سے حکومت کی سلامتی پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پی ڈی پی نے گزشتہ دنوں مطالبہ کیا تھا کہ ’فوجی انخلاء اور فوج کے اختیارات کو کم کرنے کے معاملے پر ریاستی کابینہ میں غور کیا جائے۔‘ حکمراں جماعت کانگریس کے انکار کرنے پر پی ڈی پی سے تعلق رکھنے والے وزراء نے اب تک تین بار کابینہ کی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے۔ گزشتہ جمعرات کو وزیراعظم منموہن سنگھ نے مفتی محمد سعید کے ایک خط کے جواب میں واضح کیا ہے کہ جموں اور کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرنے کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔ وزیراعظم نے اپنے جوابی خط میں خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کا حوالہ دیا کہ موسمِ بہار ميں جموں و کشمیر کنٹرول لائن پر پھر سے دراندازی ہو سکتی ہے اور ریاست میں علیحدگی پسند تشدد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ وزیراعظم نے آئندہ موسم گرما میں سلامتی کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کا وعدہ کیا۔
نیشنل کانفرنس کے رہمنا مفتی محمد سعید سے کئی باتوں کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اسی کے پیش نظر پی ڈی پی میں کئی لوگوں کی رائے ہے کہ ان کی پارٹی کے حکومت سے الگ ہوجانے کے بعد بھی مسٹر آزاد کی وزارت کو باہر سے حمایت کرنی چا ہیے تاکہ نیشنل کانفرنس کا اثر و رسوخ نہ بڑھے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مفتی محمد سعید فوجوں کی واپسی کے مطالبہ پر کانگریس کے ساتھ ٹکر اس لیے لے رہے ہیں کیوں کہ پی ڈي پی کی نظریں آئندہ اسمبلی انتخاب پر لگی ہوئی ہیں۔ سیاسی مبصر رشید احمد کے مطابق مفتی سعید نےگزشتہ 2002 کا انتخاب نیم علیحدگی پسندانہ ایشوز پر لڑی تھی لیکن اس بار مسٹر سعید ان ایشوز پر انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے کیوں کہ عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ انہوں نے پچھلے انتخابات میں جو بڑے بڑے وعدے کیے تھے ان کو پورے نہیں کیے ہیں۔ رشید احمد یاد دلاتے ہیں کہ ’مفتی محمد سعیدنے اپنے دورِ اقتدار ميں اعلان کیا تھا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیے بدنام پولیس کے خصوصی ٹاسک فورس کو ختم کیا گیا ہے لیکن اب عام آدمی کو بھی پتہ چلا ہے کہ وہ خصوصی فورس آج بھی ریاست میں موجود ہے اور اس کے اہلکاروں نے کئی شہریوں کوفرضی چھڑپ میں مار ڈالا ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ مفتی سعید نے فوجی انخلاء کا جو مطالبہ کیا ہے اس پر علیحدگی پسند قیادت بھی ناخوش ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کےسربراہ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے مفتی سعید کے اس سیاسی قدم کو کمزور کرنے کے لیے یہ انکشاف کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوج کے انخلاء پر اتفاق ہوگیا ہے اور صرف اس پر عمل کر نا باقی ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نے میر واعظ کے اس بیان کی تردید کی تھی تاہم میر واعظ اب بھی اس بات پر قائم ہيں کہ فوج کے انخلاء کے معاملے پر ہندو پاک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیر میں ہزاروں کا احتجاج27 December, 2006 | انڈیا فائر بندی کیلیے میر واعظ کی اپیل 04 February, 2007 | انڈیا دھماکہ: کشمیری خاتون بھی ہلاک19 February, 2007 | انڈیا فرضی تصادم: ایس ایس پی پر فرد جرم 28 February, 2007 | انڈیا کشمیر: 18 سرکاری ملازم برطرف11 March, 2007 | انڈیا کشمیر میں برفباری، زندگی مفلوج13 March, 2007 | انڈیا ترال: فوج کے خلاف مقدمہ درج13 March, 2007 | انڈیا ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے پرغور15 March, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||