BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 March, 2007, 16:44 GMT 21:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: 18 سرکاری ملازم برطرف

کشمیر
حکومت کے اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں حکومت نے شدت پسندوں سے رابطہ رکھنے کی پاداش میں اٹھارہ سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیا ہے۔

اس فیصلہ پر عوامی حلقوں میں بے اطمینانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

برطرف شدہ ملازمین میں میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے ایک ڈاکٹر، کشمیر یونیورسٹی کے ایک لیکچرار، دو ایگزیکٹیو انجینئر اور پولیس کانسٹیبل شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پچاس دیگر سرکاری ملازمین کا معاملہ زیرِ غور ہے جنہیں ہوم ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات پر نوکری سے سبکدوش کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے جمعہ 9 مارچ کو کابینہ اجلاس کے دوران مختلف محکموں سے وابستہ اٹھارہ ملازمین کو نوکری سے برخواست کرنے کے احکامات صادر کیے۔

اس حوالے سے دفترِ داخلہ کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ان ملازمین کو پولیس نے وقتاً فوقتاً شدت پسند سرگرمیو ں کی پاداش میں حراست میں لیا تھا۔

غلام نبی آزاد حکومت کے فائننشل کمشنر ہوم بی آر کنڈل نے بی بی سی کو بتایا’یہ سفارشات پولیس کی اطلاعات پر حکومت کے سامنے رکھی گئیں۔ ان سبھی ملازمین کے ’ڈوزئیر‘ ہمارے دفتر میں موجود ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فہرست دو ماہ قبل مکمل کی گئی تھی۔

حکومت کے اس فیصلہ سے عوامی حلقوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ برطرف کیے گئے ملازمین میں شامل سرینگر کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایگزیکٹو انجنئیر نذیر احمد جان چار ماہ قبل ریٹائر ہو گئے ہیں۔

نذیر جان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرینگر میں اٹھائیس اگست دو ہزار تین کو ہونے والے ایک فدائی حملے میں ملوث شدت پسندوں کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ نذیر جان کا کہنا تھا ’ان سفارشات کی صحت کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہوگا کہ مجھے سروس میں دکھایا گیا ہے جبکہ میں مہینوں پہلے ریٹائر ہو چکا ہوں‘۔

ایک ٹریڈ یونین لیڈر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ برطرف شدہ ملازمین کے بارے میں حکومت کو کوئی حق نہیں کہ الزامات کو صحیح مان کر ان کا روزگار ختم کریں۔ ان کا کہنا تھا ’فرضی جھڑپوں کے معاملے میں تو ایس ایس پی اور ڈی ایس پی سمیت سولہ اہلکار گرفتار ہیں، ثبوت بھی ہیں اور شواہد بھی ہم نے تو ابھی تک نہیں سنا کہ کسی پولیس اہلکار کو نوکری سے برخاست کیا گیا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد