ہتھیار ڈالنے والا ’شدت پسند‘ قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں اور کشمیر کی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایک شخص اور ان کے بیٹے کو مشتبہ شدت پسندوں نے گلے کاٹ کر قتل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ بدھ کی رات ڈوڈہ ضلع کے کشتوار قصبہ میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق اس واقعہ میں ہلاک ہونے والا چھبیس سالہ محمد امین تھا، جو خود بھی ماضی میں ایک شدت پسند رہ چکا ہے۔ تاہم بعد میں اس نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے محمد امین اور ان کے والد کو انتقاماً مارا گیا ہو۔ فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے پہلے محمد امین حرکت المجاہدین کے رکن تھے۔ محمد امین اور ان کے والد حال ہی میں نقل مکانی کر کے کشتوار قصبہ میں آباد ہوئے تھے۔ ہتھیار ڈالنے والے شدت پسند اکثر اسی علاقے میں آباد ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے آپ کو دور دراز کے گاؤں میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور انہیں اس بات کا ڈر رہتا ہے کہ کہیں شدت پسند ان پر حملہ نہ کر دیں۔ خیال رہے کہ ماضی میں بھی ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں اور ان کے خاندان والوں پر شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ | اسی بارے میں فرضی تصادم: ایس ایس پی پر فرد جرم 28 February, 2007 | انڈیا ڈی این اے، شہری کی ہلاکت ثابت 22 February, 2007 | انڈیا لاپتہ کشمیریوں کے اقرباء دلّی روانہ18 February, 2007 | انڈیا کشمیر میں تصادم، دو فوجی ہلاک 29 January, 2007 | انڈیا حریت رہنما کی رہائش گاہ پرحملہ15 January, 2007 | انڈیا جموں میں چار شدت پسند ہلاک04 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||