ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے پرغور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں و کشمیر میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 58 سال سے بڑھا کر 60 سال کرنے کے بارے میں غور کرر ہی ہے۔ وزیرِاعلٰی غلام نبی آزاد نےگزشتہ دنوں ملازمین کی جوائنٹ کمیٹی کے نمائندوں کو بھی یقین دلایا ہے کہ حکومت اپنے ملازمین کے مطالبے پر غور کر رہی ہے۔ سرکاری ملازمین گزشتہ کئی سال سے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ ایک عام آدمی کے زندہ رہنے کی عمر میں اضافہ ہوا ہے اور ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں میں سرکاری ملازمین کو ساٹھ سال کی عمر میں ہی ریٹائر کیا جاتا ہے اس لیے انہیں 58 سال کی عمر میں ریٹائر کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حکومت کے اس اعلان سے جہاں تین لاکھ سے زیادہ ملازمین خوش ہیں وہیں لاکھوں بے روزگار نوجوانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ریاست میں ڈیڑھ لاکھ نوجوان بے روزگاروں کی فہرست میں اپنا نام درج کرا چکے ہیں لیکن بےروزگاروں کی اصل تعداد اس سے دوگنی بتائی جاتی ہے اور حکومت کے پاس ان سب کے لیے ملازمتیں نہیں ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے لیے عمر زیادہ سے زیادہ سینتیس سال تک بڑھائی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی عمر کی یہ حد بھی پار کر گئی ہے یا اسے پار کرنے کے قریب ہے۔ ایک بے روز گار نوجوان منظور احمد کا کہنا ہےکہ اگر ریٹائرمنٹ کی عمر میں دو سال کا اضافہ کیا گیا تو اس سے نوجوان خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا ’حکومت کو نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہئیں نہ کہ ایسے اقدام اٹھانے چاہیئں جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہو‘۔ ڈاکٹر سروش نامی ایک بے روزگار نوجوان کا کہنا تھا ’ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ کی بجائے پچپن سال کرنے کی ضرورت ہے اور ملازمین کو قبل از وقت ریٹائر ہونے کے لیے آمادہ کرنا چاہیے‘۔ ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ خورشید عالم کا کہنا ہے ’ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کے بارے میں بے روزگار نوجوانوں کی تشویش غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سالانہ پانچ لاکھ ملازمین ریٹائر ہوتے ہیں اس لیے لاکھوں بے روز گار نوجوانوں کو روزگار فراہم ہو سکتا ہے‘۔ مسٹر خورشید کےمطابق سرکاری جگہوں پر آسامیاں خالی پڑی ہیں اور اسے پر کیے جانے کی ضرورت ہے لیکن حکومت اسے پر نہیں کر رہی ہے اس لیے ریٹائرمنٹ کی عمر کے معاملے کو روزگار سے جوڑنا غلط ہے۔ بہت سے سرکاری ملازمین حکومت کےاس اضافے کی تجویز پر اصولی طور متفق ہیں لیکن بڑھتی بے روزگاری کے سبب اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔اور اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان موجودہ عمر کو ہی برقرار رکھا جائے۔سرکاری ملازم حلیمہ بیگم کاکہنا ہے ’میرے دو بیٹے بےروزگار ہیں اس لیے میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے ریٹائر کر کے میرے بیٹوں کو نوکری دی جائے‘۔ | اسی بارے میں کشمیر: کانگریس حکومت کو خطرہ05 March, 2007 | انڈیا ’کشمیر سے فوجی انخلاء پر اتفاق‘03 March, 2007 | انڈیا ’ مسئلے کا مرحلہ وار حل ممکن ہے‘25 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||