’ مسئلے کا مرحلہ وار حل ممکن ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنما میر واعظ عمرفاروق نےصدر مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش کی جانے والی قرار دادوں کو اچھا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے حتمی حل تک کوئی عارضی حل تلاش کرنا ہوگا۔ بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ’ٹاکنگ پوائنٹ‘ میں نئی دہلی کے اسٹوڈیو سے دنیا بھر سےموصول ہونے والے سامعین کے سوالات کا براہ راست جواب دیتے ہوئے انہوں نے ’سیلف گورننس‘ کی تجویز کی وضاحت بھی کی۔ میر واعظ عمرفاروق نے کہا کہ پندرہ یا بیس سال تک دفاع اور کرنسی جیسے چند حساس معاملات کے علاوہ دیگر معاملات میں کشمیریوں کو آزادی دے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت اور کشمیر کے درمیان اعتماد کی فضا کے قائم ہونے کے بعد کشمیر کے مسئلے کا حتمی یا مستقل حل نکالا جائے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے سعید اللہ خان بنگش کے سوال کہ پاکستان اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ڈٹے رہنا چاہیے، میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ قراردادیں ساٹھ سال پرانی ہو چکی ہیں اور اب ان کا متبادل ڈھونڈنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور عراق کی صورت حال نے واضح کر دیا ہے کہ اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہوچکا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ توقع کرنا کہ اقوام متحدہ کشمیر کے مسئلے کا حل کرے گا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ اقوام متحدہ کی طرف سے اس مسئلے کے حل کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی جاتی تو کشمیر کی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صورت حال کا ادراک کرے اور متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کرے۔
حریت کانفرنس کے مختلف دھڑوں میں اتحاد کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حریت کانفرنس میں اتحاد ہو جائے تو وہ چیئرمین کے عہدے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کے اتحاد میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔ انہوں نے اپنے دھڑے کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ حریت کانفرنس کا بنیادی موقف ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے اور پاکستان اور بھارت سے بات چیت کر کے اپنا نقطہ نظر واضح کیا جائے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بات چیت سے انکار کرنے کا مطلب ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش ہی نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے ذریعے ہی مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مظفر آباد اور سری نگر کے درمیان بس سروس کوئی حتمی قدم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں طرف کے لوگوں کے درمیان تجارت ہو اور پھر مرحلہ وار طریقہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کونسل کو بھی اس عمل میں مدد کرنی چاہیے تاکہ بھارت پر نرمی دکھانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ | اسی بارے میں لاپتہ: ہزاروں اقرباء سڑکوں پر12 February, 2007 | انڈیا لاپتہ کشمیریوں کے اقرباء دلّی روانہ18 February, 2007 | انڈیا کشمیر: زمین کی نیلامی پر ہڑتال25 November, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجیوں سمیت چھ ہلاک25 November, 2006 | انڈیا ڈی این اے، شہری کی ہلاکت ثابت 22 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||