کشمیرگول میز 24 اپریل کو ہو گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے اعلان کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل پر بات کرنے کے لیے تیسری گول میز کانفرنس نئی دلّی میں چوبیس اپریل کو منعقد ہوگی۔ لیکن علیٰحدگی پسند حریت کانفرنس کے کسی بھی دھڑے نے ابھی تک اس میں شمولیت کا اشارہ نہیں دیا ہے۔ سخت گیر سمجھے جانے والے سید علی شاہ گیلانی کی سربراہی والے دھڑے نے پہلے ہی ایسی کانفرنسوں کو ’وقت گذاری‘ قرار دے کر اس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ جبکہ اعتدال پسند میر واعظ عمر فاروق کی حریت کانفرنس نے دعوت نامے آنے کے بعد مشاورت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف ہندنواز نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ایسی مشق سے تب تک فائدہ کی امید رکھنا بیکار ہے جب تک اس میں مسلح مزاحمتی قیادت کو شامل نہ کیا جائے۔ میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم میڈیا قیاس پر بات نہیں کرینگے۔ اگر رسمی طور ہمیں کانفرنس میں بلایا گیا تو ہم اس حوالے سے مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کرکے مشاورت کرینگے، اور بعد میں کوئی فیصلہ لینگے۔‘ گول میز کانفرنسوں کا تصّور دراصل ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پچھلے سال فروری میں متعارف کرایا تھا جب انہوں نے ہند نواز اور ہند مخالف قوتوں کو نئی دلّی میں یکجا ہوکر مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے لیے گول میز پر مدعو کیا۔ لیکن اس کانفرنس میں پینتیس سال قبل گنگا نامی ہندوستانی طیارہ اغوا کرنے والے علیٰحدگی پسند لیڈر ہاشم قریشی کے سوا کسی بھی نمایاں ہندمخالف لیڈر نے شمولیت نہیں کی۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے کانفرنس میں شرکا کی تعداد میں دوگنا اضافہ کروانے کی یقین دہانی کرائی اور گزشتہ سال ہی مئی کے مہینے میں دوسری کانفرنس سرینگر کے انٹرنیشنل کنوینشن سینٹر میں منعقد ہوئی۔ لیکن اس میں بھی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور ان سے باہر کسی بھی گروپ نے شرکت نہیں کی۔ یہاں تک کہ ہاشم قریشی نے بھی اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔ اس روز انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی یہاں تک کہ وزیر اعظم نے اپنا دورہ یہ کہہ کر مختصر کر لیا کہ ان کی موجودگی سے عام لوگوں اور سیاحوں کو تکلیف ہوئی ہے۔ حریت کانفرنس کے سینئر لیڈر پروفیسر عبدالغنی بٹ نےاس موقعہ پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’حریت مسئلہ کشمیر پر بات کرنا چاہتی ہیں لیکن کسی جھمگٹھے کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔‘
میرواعظ عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ آج بھی ہمارا یہی مؤقف ہے، لیکن پہلے دعوت نامہ تو آنے دیجئیے، ہم مل بیٹھ کر مشاورت کرینگے۔‘ انہوں نےمزید بتایا کہ ہندنواز لیڈرشپ کے ساتھ نئی دلّٰی کا کوئی تنازعہ نہیں ہے اور اگر کسی کے ساتھ تنازعہ ختم کرنے کی بات کرنی ہے تو وہ فقط حریت کانفرنس ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’ان (ہندنوازوں) کا کیا رول ہے۔ جو لوگ اس وقت بندوق تھامے ہندوستان کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں، ان پر ہم اثرورسوخ رکھتے ہیں۔اگر ہندوستان واقعی سنجیدگی سے آگے بڑھے تو ہمیں مجاہدین سے سیز فائر کروانے میں دیر نہیں لگے گی۔‘ دریں اثنا حزب اختلاف نیشنل کانفرنس کے صدر اور ہندوستان کے سابق نائب وزیر خارجہ عمر عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ایک وسیع البنیاد تصور ہے جو مسئلہ کشمیر کا متفقہ حل ڈھونڈنے میں ضرور مدد دے سکتا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ مشق تب تک فائدہ مند نہیں ہوگی جب تک اس میں مزاحمتی حلقوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ کا یہ فرض ہے کہ وہ سب کو بلائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر دعوت نامہ سید صلاح الدین کو بھی جائے تو حرج نہیں۔ لیکن اس پر گراؤنڈ ورک کرنے کی ضرورت ہے۔یہ دعوت محض دکھاوا نہ ہو بلکہ اس سے مطلوب نتائج بھی برآمد ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ راؤنڈ ٹیبل میں یہ مطالبہ ضرور اُٹھائیں گے۔ واضح رہے کہ پچھلے سال مئی میں یہاں منعقد ہوئی دوسری گول میز کانفرنس میں ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جموں کشمیر اور نئی دلّی کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے پانچ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان میں سب سے اہم سیاسی رشتوں کی استواری کے لیے بنایا گیا ورکنگ گروپ ہے جس کی سربراہی ریٹائرڑ جسٹس صغیر کر رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے انسانی حقوق کی پامالیوں پر اپنی ناراضگی دکھانے کے لیے تقریباً تین ماہ تک ان گروپوں کی کسی بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔ وہ ڈاکٹر سنگھ کے ’زیرو ٹالرنس‘ کے وعدہ پر جو انہوں نے سرینگر کی گول میز کانفرنس میں کیا تھا، صد فی صد عمل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ | اسی بارے میں ’فوجی انخلاء کے بغیر سکوپ نہیں‘04 March, 2007 | انڈیا مفتی: حکومتی اتحاد سے علیحدگی؟18 March, 2007 | انڈیا فوجی کیمپ ٹارچر سینٹر ہیں:عمر02 November, 2006 | انڈیا حزب المجاہدین بات چیت کے راضی 06 April, 2007 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا کشمیر 2006 :فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال24 December, 2006 | انڈیا کشمیر: کانگریس حکومت کو خطرہ05 March, 2007 | انڈیا کشمیر میں ہڑتال سے زندگی متاثر 29 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||