 | | | رپورٹ میں بابری مسجد کے انہدام کے واقعہ کی مثال دی گئی ہے |
ہندوستان میں انتظامی اصلاحات کے لیے تشکیل کردہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر کسی ریاست میں متنازعہ حالت کے دوران بگڑتی صورتحال سے نمٹنے میں ریاستی حکومت ناکام ہو تو مرکزی حکومت کو حفاظتی نظام اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہیۓ۔ رپورٹ میں 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام کے واقعات کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی ریاست میں بگڑتی صورتحال کے دواران ریاستی حکومت مرکزی حکومت کے احکامات کے تحت حالات پر قابو پانے میں ناکام ہوتی ہے تو مرکزی حکومت کو امن و قانون بحال کرنے کے لیے متاثرہ ریاست میں فوج تعینات کرنی چاہیۓ۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور دیگر انتظامی اصلاحات کمیشن کے سربراہ ویراپا موئیلی کی قیادت میں بنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ چھبیس جون کو حکومت کو پیش کی ہے۔ رپورٹ میں یہ سفارش بھی پیش کی گئی کہ حکومت کو فوج کے خصوصی اختیارت سے متعلق قانون ’سپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ‘ کو واپس لے لینا چاہیۓ۔ واضح رہے کہ ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں اور کشمیر میں سپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ نافذ ہے۔ وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والی تنظمیں حکومت پر دباؤ ڈالتی رہی ہیں کہ اس قانون کے تحت فوج عام عوام پر زیادتی کرتی ہے اور حکومت کواس قانون کو واپس لے لینا چاہیۓ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تصادم کے واقعات کی انڈیپنڈنٹ پولیس انسپکٹر کواپنی تفتیش چوبیس گھنٹے کے اندر اندر مکمل کرنی چاہیۓ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس تھانوں میں مقامی مذہبی اور لسانی آبادی کے حساب سے پولیس افسران بھرتی کیے جانے چاہئیں یعنی اگر کسی علاقے میں مسلم آبادی زیادہ ہے تو وہاں بیشتر پولیس افسران مسلمان ہونے چاہئیں۔ رپورٹ میں پولیس اصلاحات سے متعلق بعض ایسی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن کے تحت پولیس اور عوام کے درمیان دوستانہ رشتہ قائم ہو سکے۔ |