گجرات پولیس مقابلے: مذہبی رنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے جعلی پولیس مقابلے کو اب مذہبی رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔ بعض حلقے جعلی پولیس مقابلے میں سہراب الدین اور ان کی بیوی کے قتل کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس پر وزیر اعلی نریندر مودی کو مبارک باد بھی پیش کر رہے ہیں۔ جعلی مقابلے کے حوالے سے انٹر نیٹ پر بحث و مباحثے میں بہت سے لوگ نریندر مودی کو یہ کہہ کر مبارک باد دے رہے ہیں کہ سہراب الدین ایک مسلمان دہشت گرد تھا جسے ہلاک کرنا ضروری تھا۔ ایک ای میل میں کہا گیا ہے’ اس پر واویلا مچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ نریندر مودی کو دہشت گردی کے خلاف سخت قدم اٹھانے پر مبارک باد پیش کی جانی چاہیے۔‘ سیاسی مبصرین کے مطابق اس سالے کے آخر میں گجرات میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور مودی حکومت اس کوشش میں ہے کہ اس معاملے کو بھی مذہبی رنگ دیکر سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔ احمدآباد میں ایک سینئر صحافی آر کے مشرا کہتے ہیں کہ ریاستی حکومت آئندہ انتخابات کے لیے ایک ایسے مسئلے کی تلاش میں تھی جس سے ’ہندتوا‘ کا کارڈ کھلیلا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا ’سیاسی مفاد کے لیے تمام کوششیں شروع ہوچکی ہیں، یہ بات پھیلانے کی کوشش ہورہی ہے کہ سہراب الدین ایک اسلامک شدت پسند اور ملک کا دشمن تھا جس کے خاتمے کے لیے مودی سرکار سرگرم تھی لیکن کانگریس اس میں رخنہ ڈال رہی ہے، ابھی یہ خفیہ مہم ہے لیکن چند روز میں آئندہ انتخابات کے پیش نظر اسے مذہتی تصادم کی شکل دی جائےگی۔‘ اس حوالے سے روز نامہ’ایشین ایج‘ نے صفحہ اول پر ایک سرخی لگائی ہے جس میں لکھا ہے ’ کیا نفرت انگیز میلز انتخابی سال میں مودی کو بچا سکتی اخبار نے ایک ای میل کی نقل شائع کرتے ہوئے لکھا ’میڈیا اور جدید تعلیم یافتہ نام نہاد سیکولر لوگوں کے بہکانے میں نہ آئیں، گجرات کی حفاظت کریں، نریندر کو دہشت گردی کے خلاف سخت کاراوائی کرنے پر مبارک باد پیش کی جائے۔‘ اس موضوع پر بحث میں ایک اور ای میل اس طرح ہے’ مودی نے صرف ایک ہزار کو ہی مارا ہے، مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے اس سے زیادہ کیوں نہیں ہلاک کیے۔‘ انٹرنیٹ پر ہی نہیں بلکہ موبائیل فون پر بھی ایس ایم ایس کے ذریعے یہ مہم چلائی جارہی ہے۔
گجرات حکومت یہ تسلیم کرچکی ہے کہ سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کو بھی قتل کردیا گیا ہے۔ اس کے متعلق ایک ایس ایم ایس یوں ہے ’ عظیم گجرات دینے پر نریندرمودی کو مبارک باد، سہراب الدین ایک دہشت گرد تھا اور کوثر بی اس کی رکھیل، کیا اس مسئلہ پر اتنی توجہ دینے کی ضرورت ہے؟۔‘ آر کے شرما کہتے ہیں کہ گجرات حکومت نے اس کام کے لیے بہت سے لوگوں کو ذمہ داری دے رکھی ہے جو انٹرنیٹ اور موبائیل پر مودی کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔’صحافیوں کے ای میل پر ایسے پیغامات کا سیلاب سا آیا ہوا ہے اور یہ سب ایک منصوبہ کے تحت کیا جارہا ہے۔‘ گجرات میں بی بی سی کے نامہ نگار راجیو کھنہ کا کہنا ہے کہ فی الوقت جو ماحول ہے اس سے سماج میں مذہبی کشیدگی بڑھنے کے امکانات ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ گزشتہ روز ایک مزار پر پتھراؤ ہوا ہے، ایک طرف ملک میں جعلی مقابلوں پر لوگ افسوس ظاہر کر رہے ہیں تودوسری طرف گجرات میں ملزم پولیس افسروں کی حمایت میں نعرہ بازی ہوئی ہے، یعنی مذہبی خطوط پر تقسیم گجرات میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کی تیاری ہورہی ہے۔‘ | اسی بارے میں گجرات: فسادات میں دو ہلاک27 February, 2004 | صفحۂ اول گودھرا میں کرفیو05.09.2003 | صفحۂ اول مودی:برطانیہ آمدپراحتجاج17 August, 2003 | صفحۂ اول مودی: احتجاج کی تیاری16 August, 2003 | صفحۂ اول پانڈیا کا قاتل گرفتار01.01.1970 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||