بہار پولیس: لاٹھی کی بجائے چاکلیٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست بہار کے مختلف اضلاع میں کئی پولیس والے آجکل اسلحہ اور لاٹھیوں کی بجائے ٹافیوں اور بسکٹوں کے ڈبے اٹھائے نظر آتے ہیں۔ لاٹھی کی جگہ یہ اشیاء اٹھا کر گھومنے کی وجہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہیں جنہوں نے محکمہ پولیس کو تعلیم سے محروم بچوں کو سکولوں کی طرف راغب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس ہدایت کے بعد تو ریاست میں قدرے مختلف قسم کی ’پکڑ دھکڑ مہم‘ چل پڑی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے رابطہ عامہ کے اہلکار انل کمار چودھری کے مطابق پولیس کو یہ ہدایت لوگوں میں اس کا تاثر بہتر کرنے کے لیے جاری کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہدایت کے تحت ہر ضلع کے ایس پی کو کہا گیا ہے کہ وہ تھانے داروں کے ذریعے غریب، نادار اور بیکار گھومنے والے بچوں کے والدین کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں میں داخلہ کرائیں۔ اس حوالے سے ہر ضلع کو ایک ہدف بھی دیا گیا ہے۔ جن علاقوں میں اس مہم پر زیادہ توجہ دی گئی ہے وہاں کے تھانوں کے اہلکاروں کے معمولات قدر مختلف ہو گئے ہیں۔ پولس ذرائع بتاتے ہیں کہ اب ہر صبح تھانیدار سے جب سپاہی ڈیوٹی کے بارے میں پوچھتا ہے تو جواب آتا ہے ’بچے ڈھونڈنے ہیں‘۔ ظاہر ہے اس سے مراد وہ بچے ہوتے ہیں جنہیں سکولوں میں داخلہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔
پولیس اہلکار والدین سے ملتے ہیں اور بچوں کو چاکلیٹ اور اور کھانے پینے کی دوسری اشیاء پیش کرتے ہیں۔ سکول میں داخل ہونے کے بعد بچوں کے لیے کتاب، کاپی اور پنسِل کا انتظام مقامی لوگوں کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق گزشتہ ماہ شروع ہونے والی اس مہم کے نتیجے میں اب تک بیس ہزار بچوں کو سکولوں میں داخلہ دلایا جا چکا ہے۔ اس مہم میں سیتا مڑھی اور ویشالی ضلع کی کارکردگی سب سے بہتر ہے۔ ان دونوں میں سے ہر ضلع میں ساڑھے تین ہزار بچوں کو سکولوں میں داخلہ دلایا گیا ہے۔ بچوں کو سکولوں میں داخلہ دلانے کی ذمہ داری دینے سے کیا پولیس پر کام کا بوجھ بڑھ نہیں گیا؟ اس سوال کے جواب میں نوادہ کے ایس پی شالین نے کہا ’اس مہم سے ایک طرف پولیس کا امیج بہتر ہو رہا ہے اور دوسری طرف اطلاعات موصول ہونے میں بہتری آ رہی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو سکولوں میں داخلہ دلانے کے لیے پولیس گاؤں اور محلوں میں جا کر عام لوگوں سے رابطہ بڑھا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں انہیں معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں بہار: تنخواہیں سب سے زیادہ08 March, 2007 | انڈیا مزدوروں کےمستقبل پرسیاست11 January, 2007 | انڈیا بہار کے لوگ ریاست چھوڑنے پر کیوں مجبور؟07 January, 2007 | انڈیا بہار، سردی سے سو لوگ ہلاک06 January, 2007 | انڈیا کنڈوم سےشرم مٹاؤ مہم کا آغاز03 November, 2006 | انڈیا بہار: ’پولیس اہلکار ایڈز میں مبتلا‘25 October, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||