BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 November, 2006, 19:02 GMT 00:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: نتیش حکومت کا ایک سال مکمل

نتیش کمار
نتیش کمار نے ایک سال قبل بہار کے وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھایا
بہار میں اقتدار کی تبدیلی کو ایک برس مکمل ہونے پر مختلف طرح کے کارڈ جاری کیئے جا رہے ہیں۔

گذشتہ سال چوبیس نومبر کو وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے والے نتیش کمار اپنی حکومت کا رپورٹ کارڈ جاری کر رہے ہیں تو حزبِ اختلاف ان کی حکومت کی مبینہ ناکامیوں کا کارڈ جاری کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار کہتے ہیں کہ لالو اور رابڑی کی حکومت کے پندرہ سالوں میں جن منفی خبروں کی وجہ سے قومی میڈیا میں بہار سرخیوں میں رہتا تھا، وہ سرخیاں بدلی ہیں۔

نتیش کمار اور غیر جانب دار مبصرین کے لۓ ریاست کی سب سے بڑی تبدیلی پنچائتوں کے انتخاب میں خواتین کے لۓ پچاس فی صد نششتوں کو مخصوص کر کے اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ خود سرکاری رپورٹ کارڈ میں اس کا تذکرہ سب سے اوپر ہے۔

حکومتی تقریب
حکومت کے کارڈوں پر اس کی ایک سالہ کامیابیوں کا ذکر ہے

لالو اور رابڑی کے دورِ حکومت میں ریاست کی لاقانونیت باالخصوص اغوا کے واقعات کی خبریں بھری ہوتی تھیں۔گزشتہ ایک سال میں بظاہر اس معاملے میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اغوا کے واقعات ختم تو نہیں ہوئے، تاہم اس میں واضح کمی بتائی جاتی ہے۔

نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ بننے سے قبل ریاست میں سڑکوں کی حالت بے حد خستہ تھی۔ نئی حکومت اس معاملے میں اب بھی دفاع کرتی نظر آتی ہے۔

خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار کہتے ہیں کہ سڑکیں آئندہ سال اپریل سے دکھائی دینے لگیں گی۔ ان کی دلیل ہے کہ سڑک بنانے کا ایک طے شدہ طریقۂ کار ہے۔ اس کے لیۓ ٹینڈر وغیرہ کرانے اور برسات گزرنے کا انتظار کرنے میں وقت لگا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں نتیش حکومت کی پیش قدمی کا حزب اختلاف بھی سیدھے طور پرانکار کرتے نظر نہیں آتی۔

ریاست کے سرکاری اسکولوں میں تقریباً سوا دو لاکھ اساتذہ کی تقرری کا عمل اب آخری دور میں ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اب اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کے سبب پڑھائی نہ ہونے کا مسئلہ کافی حد تک دور ہوگا۔

بجلی کا شعبہ اب بھی پہلے کی طرح ہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں نتیش کمار کہتے ہیں کہ ریاست میں اپنی بجلی پیدا کرنے کا نظام درہم برہم تھا اور اس نظام کو درست کیا جا رہا ہے۔

پوسٹر
اپوزیشن پارٹیاں کارڈوں اور پوسٹروں کے ذریعے حکومت پر کیچڑ اچھال رہی ہیں

گزشتہ ایک سال کی حکومت کے بارے میں نتیش کمار اور سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد اپنا ایک بیان اکثر دہراتے ہیں۔ نتیش کمار اور انکے وزراء کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کو تبدیلی نظر نہیں آتی تو ہم آنکھ کے ڈاکٹر نہیں کہ ان کا علاج کریں۔ دوسری جانب لالو ابھی یہ کہہ کر کام چلا رہے ہیں ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا، نہیں تو ہمیں واپس آنا پڑے گا‘۔

گزشتہ ایک سال میں حکومت کی کارکردگی کی بحث میں قابل غور بات یہ ہے کہ حزبِ اختلاف نتیش حکومت کے دعووں کو رد کرنے کے بدلے اپنے اعتراضات درج کرا کرہی ہے۔ مثلاً کانگرس صدر سدانند سنگھ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت مرکز سے دیئے گۓ پیسوں کا صحیح استعمال کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

لالو اور رابڑی حکومت کی سخت تنقید کرنے والی پارٹی سی پی آی ایم ایل نے نتیش حکومت کا ’فیلیر کارڈ‘ تیار کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی سیکرٹری نند کشور پرساد کہتے ہیں کہ حکومت کے فی دن دس اعلانات کے حساب سے کل تین ہزار اعلانات کۓ ہیں مگر بقول مسٹر پرساد کسی پر عمل درآمد نہ ہوا۔

نتیش حکومت نے ریاست میں لاقانونیت پر قابو پانے کے لیۓ سابق فوجیوں پر مبنی اسپیشل آگزیلیری پولیس یا ’سیپ‘ بنائی۔ حکومت کا خیال ہے کہ ’سیپ‘ سے کافی مدد ملی ہے اور اس تجربے کی پذیرائی مرکزی سطح پر ہوئی ہے۔

لالو پرساد کی پارٹی آر جے ڈے کے سینئر رہنما شیام رجک کی شکایت ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے حقوق کے لۓ مظاہرہ کرنے والوں کو غیر جمہوری طریقہےسے کچلا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حکومت کے خلاف شکچھا متر(علم دوست) کا مظاہرہ ہو یا تقرری کے منتظر سپاہی بننے کے امیدواروں کا احتجاج، پولس کا رویہ بربریت بھرا رہاہے۔

آر جے ڈی کے کارکن
لالو پرساد یادو کی پارٹی آر جے ڈی کو پولیس کے برتاؤ سے گلہ ہے

نتیش حکومت نے اپنے رپورٹ کارڈ میں ریاست کے ہسپتالوں کی حالت میں سدھار کا تذکرہ کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ مفت میں دوائیں بھی ملیں، اور ان کا نظام درست کیا گیا ہے۔

موجودہ حکومت کی نظر میں ایک اور بڑی کامیابی ریاست میں سرمایہ کاری کا ماحول بننا ہے ۔نتیش کمار کہتے ہیں کہ پہلے صنعت کاروں کے ریاست چھوڑنے کی خبر آتی تھی، آج رتن ٹاٹا اور آنند مہندرا پٹنہ آ کر سرمایہ کاری کی بات کر رہے ہیں۔

بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے صدر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ریاست میں سرمایہ کاری کا ماحول بنا ہے لیکن ان کی شکایت ہے کہ حکومت مقامی صنعتوں کو جلا بخشنے کے لیۓ کچھ خاص نہیں کر رہی۔

مجموعی طور پر حکومت یہ دعویٰ کرنے کی مجاز نظر آ رہی ہے کہ کچھ تبدیل ہوا ہو یا نہ، ماحول ضرور سازگار ہوا ہے۔ مقامی لوگ بھی یہی کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ لالو اور رابڑی پندرہ سال برداشت کرنے کے بعد نتیش حکومت کے کچھ اور ماہ دیکھنے میں کوئی پریشانی نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد