BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 September, 2006, 07:11 GMT 12:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سرمایہ کاری کے لیئے ہرممکن اقدام‘

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار مزید سرکایہ کاری کے لیئے پر عزم ہیں
انڈیا کی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہےکہ ریاست میں تقریباً چودہ ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی پیش کش مل چکی ہے اور وہ مزید سرمایہ کاری کے حصول کے لیئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

گزشتہ چند دنوں میں قومی سرمایہ کاری کمیشن کے چیئرمین اور مشہور صنعت کار رتن ٹاٹا، مہندرا اینڈ مہندرا کمپنی کے نائب صدر آنند مہندرا اور میکس ہیلتھ کیئر کے انل جیت سنگھ نے بہار کا دورہ کیا ہے۔

میکس ہیلتھ کیئر کے حوالے سے یہ اطلاعات ہیں کہ وہ ریاست میں جدید ترین سہولتوں سے مزین ہسپتال کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسی طرح مہندرا اینڈ مہندرا کمپنی ریاست میں اپنی کاروں اور ٹریکٹروں کی زبردست مقبولیت کے پیش نظر یہاں پروڈکشن پلانٹ کھولنے کی تیاری میں ہے۔ خود آنند مہندرا نے بہار سے لیچی کا کاروبار شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

این کے سنگھ کا کہنا ہے کہ ریاست کی ایک بڑی آبادی دلی اور دوسری جگہوں پر واقع مہنگے ہسپتالوں میں علاج کے لیئے جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اگر میکس جیسی سہولتیں پٹنہ ہی میں مل جائیں تواس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں ادویات کا بڑا کاروبار ہے لیکن کسی بھی بڑی دوا کمپنی کا کارخانہ یہاں موجود نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ادویات کی کمپنیاں یہاں کارخانے کھولیں۔

دوسری طرف سی پی آئی (ایم ایل) کے ریاستی جنرل سیکریٹری رام جتن شرما کا کہنا ہے کہ بڑے صنعت کاروں کی سرکایہ کاری کے باوجود بہار کے غریب عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑے لوگ اپنے فائدے کے لیئے یہاں آ رہے ہیں اور ان کی آمد بھی بڑے لوگوں کے کام ہی آئے گی۔

 بڑے صنعت کاروں کی سرکایہ کاری کے باوجود بہار کے غریب عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا
رام جتن شرما

بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے صدر کے پی ایس کیشری کا کہنا تھا کہ بڑے صنعت کاروں کی آمد سے ریاست میں سرمایہ کاری کا ماحول تیار ہو رہا ہے تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ حکومت کے لیئے اصل چیلنج مقامی صنعت کو جلا بخشنے کا ہے۔

مسٹر کیشری کے مطابق ریاست کے چون فی صد صنعتی یونٹ بند پڑے ہیں اور چوبیس فیصد صنعتی یونٹ ’بیمار‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ مقامی صنعت کاروں کے لیئے بجلی کی عدم فراہمی اور سڑکوں کی خراب حالت دو بڑے مسائل ہیں۔

کیشری کے بقول ریاست میں لیچی، آم اور مکھانا کے علاوہ جوٹ کی پیداوار پر مبنی صنعتیں معاشی ترقی کا ضامن بن سکتی ہیں۔

انڈسٹریز کے ماہرین کا خیال ہے کہ ریاست میں چینی کی ملز کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد