BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 July, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار:متبادل عبادت گاہوں کی تعمیر

شاہراہ
قومی شاہراہ نمبر اٹھائیس کے راستہ میں آنے والی عبادتگاہوں کی جگہ متبادل عبادت گاہیں تعمیر کی جائیں گی
قومی شاہراہیں بنانے والی مرکزی ایجنسی نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا ان دنوں بہار میں شاہراہ کے عبادتگاہوں کی تعمیر میں بھی مصروف ہے۔

این ایچ اے آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر پی کے داس کے مطابق قومی شاہراہ نمبر اٹھائیس کے ہمراہ پر ایسٹ ویسٹ کوریڈور میں کئی جگہ مندر اور دیگر عبادت گاہیں تعمیر کی جائیں گی۔

جہاں جہاں یہ عبادتگاہیں شاہراہ کے راستے میں آئیں گی تو انہیں اطراف کے گاؤں والوں کی رضامندی سے ہٹایا جائے گا۔ مسٹر پی کے داس کے مطابق گاؤں والے جس جگہ زمین مہیا کریں گے وہاں این ایچ اے آئی بالکل اسی طرح کا مندر یا دوسری مذہبی عمارت تیار کرائےگی۔

بہار میں یہ کام صرف این ایچ اٹھائیس پر ہو رہا ہے۔ مسٹر داس کے مطابق جو سڑک بھی عالمی بینک کے تعاون سے تعمیر کی جا رہی ہے اس کے لیۓ یہ طے کیا گیا ہے کہ راستے میں پڑنے والی تعمیرات کو ہٹا کر دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے اور نئی متبادل عبادتگاہ تعمیر کر دی جائے۔

نیشنل ہائی وے نمبر اٹھائیس کی ایک سو ساٹھ کلومیٹر کی لمبائی پر کتنے مندر ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے مگر تعمیرات سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم دو درجن جگہوں پر بڑے بڑے مندر بنانے کی ضرورت ہوگی۔

مندروں کو ہٹانے سے پہلے ان کی جگہ ویسے ہی مندر بنانے کی پالیسی کو ریاستی مذہبی ٹرسٹس بورڈ کے اہل کار اور پٹنہ کے مشہور مہاویر مندر کے منتظم کشور کنال اچھی پالیسی بتاتے ہیں لیکن فوراً یہ بات بھی کہتے ہیں کہ اس سے قدیم اور تاریخی مندروں کو مستثنٰی کرنا ضروری ہے۔

دو درجن مندر
 نیشنل ہائی وے نمبر اٹھائیس کی ایک سو ساٹھ کیلومیٹر کی لمبائی پر کتنے مندر ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے مگر تعمیرات سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم دو درجن جگہوں پر بڑے بڑے مندر بنانے کی ضرورت ہوگی

مسٹر کنال کہتے ہیں کہ عام مندروں کو پہلے بھی منتقل کیا گیا ہے مگر ریلوے کو بھی جب برج وغیرہ بنانا رہا ہے تو اس نے اہم مذہبی مقاموں کا خیال رکھا ہے۔

این ایچ اے آئی جن جگہوں پر مندر تعمیر کرنے میں مصروف ہے ان میں گوپال گنج کا بجرنگ بلی مندر بھی شامل ہے۔ اس طرح کے ایک مندر کو بنانے میں دو سے تین لاکھ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کے مقدس مہینے ساون میں ایسے کئی مندر بنا کر پورے مذہبی رسومات کے ساتھ گاؤں والوں کے سپرد کیۓ جائیں گے۔

مسٹر داس کہتے ہیں کہ مزاروں کو منتقل کرنا ممکن نہیں البتہ مسجد کی جگہ دوسری مساجد کی تعمیر کی جا سکتی ہے۔ بقول مسٹر داس فی الحال مذکورہ شاہراہ پر کسی مسجد کو منتقل کرنے کی ضرورت نہیں۔

مسٹر داس نے بتایا کہ مذہبی مقامات کے علاوہ دیگر تعمیرات کو ہٹا کر انہیں منتقل کرنے یا اسی طرح کی عمارت بنانے کا پروگرام ہے۔ ان تعمیرات میں پولیس اسٹیشن اور ہسپتال بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد