بہار نجکاری کے راستے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں جن مسائل کے لیئے سرکاری عملے کو ذمہ دار تصور کیا جاتا تھا حکومت ان کے حل کے لیئے نجکاری کا راستہ اپنا رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بہترطبی خدمات کا معاملہ ہو یا شہروں کی صفائی کا مسئلہ، حکومت کی جانب سے ان کاموں کے لیئے ٹھیکے داروں کو دعوت دی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا خیال ہے کہ صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر خدمات میں نجی شعبے کے اشتراک سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ ریاست کے تمام چھ میڈیکل کالجوں اور تمام اضلاع کے صدر ہسپتالوں میں حکومت ’ڈائگونسٹک سنٹرز‘ کھولنے کے لیئے پبلک پرائویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی کمپنیوں سے ٹنڈر طلب کر رہی ہے۔ ان نجی کمپنیوں سے حکومت یہ توقع رکھتی ہے کہ ایکسرے اور دیگر طبی جانچ کی سہولت فراہم کرے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مختلف امراض کے ماہرین کو بھی کانٹریکٹ پر اپنی خدمات دینے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ اس کے تحت صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک ایک دن کی ڈیوٹی کے لیئے انہیں پانچ سو روپے کی بھی آفر ہے۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیئے اساتذہ بھی کانٹریکٹ پر رکھے جا رہے ہیں۔ پرائمری اسکولوں میں ’شکھچا متر‘ یعنی تعلیم دوست نام سے نو ماہ کے لیئے پندرہ سو روپے ماہانہ پرٹیچر کی خدمات پہلے سے ہی لی جا رہی ہیں۔ پٹنہ میں غلاظت کے لیئے میونسپل کارپوریشن کے اہل کاروں کو کئی بار ہائی کورٹ کی سرزنش کا شکار ہونا پڑا ہے۔ اب پٹنہ میونسپل کارپوریشن نے پچاس فی صد وارڈوں کی صفائی کے لیئے نجی ایجنسی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس منصوبے کے تحت کچرے کی صفائی کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی کی ذمہ داری بھی نجی ایجنسیوں کی ہی ہوگی۔ لاقانونیت اور نکسلی تشدد سے نمٹنے کے لیئے حکومت نے ’سیپ‘ یعنی اسپیشل آگزلییری پولیس کے نام سے نئی پولیس فورس قائم کی ہے۔ ’سیپ‘ میں سابق فوجی جوانوں کی خدمات ٹھیکے پر لی گئی ہیں۔ یہ دس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر اپنی خدمات حکومت کو دے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ان اقدامات کی بعض حلقوں سے تنقید بھی ہورہی ہے۔ اسی موضوع پر ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے ممبئ آئی آئی ٹی کے پروفیسر ششر سنہا نے کہا کہ ’صحت جیسی خدمات حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ دنیا کا کوئی ترقی پذیر ملک ایسا نہیں ہے جہاں صحت کو نجی ہاتھوں میں دیا گیا ہو۔‘ پرفیسر سنہا کا کہنا ہے کہ حکومت نجکاری کے نام پر اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہی ہے۔ صحافی شریکانت کہتے ہیں کہ ہسپتالوں میں نجکاری کی سرکاری مہم کے نتیجہ میں طبی جانچ کے لیئے بازار کے ریٹ پر پیسے لیئے جا رہے ہیں۔ شریکانت کہتے ہیں: ’غریب مریض پہلے بھی پریشان تھے، آئندہ بھی پریشان رہیں گے۔‘ |
اسی بارے میں ’سیاست میں کبھی نہیں آؤں گی‘19 April, 2004 | انڈیا بھارت: سیلاب سے مزید 5 افراد ہلاک10 July, 2004 | انڈیا بہار میں نسلی تشدد، آٹھ ہلاک03 July, 2004 | انڈیا مونگیر سے میلان تک 24 April, 2005 | انڈیا پٹنہ کی خدا بخش لائبریری01 March, 2005 | انڈیا ِبہار کا باہمت پنٹو15 December, 2004 | انڈیا رقم بانٹنے پر لالو پرساد پرمقدمہ20 December, 2004 | انڈیا بہار انتخابات اور نکسلی تحریک24 January, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||