BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 March, 2007, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: تنخواہیں سب سے زیادہ

بہار سیاسی طور پر باشعور ریاست سمجھا جاتا ہے
بہار کی حکومت کے مطابق ریاست کے سرکاری ملازمین کی اوسط تنخواہ پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

ریاستی حکومت کے اقتصادی سروے کے مطابق بہار کے سرکاری ملازم کی اوسط ماہانہ تنخواہ چودہ ہزار نو سو نواسی روپے ہے جبکہ پنجاب جیسی ترقی یافتہ ریاست میں یہ تنخواہ بارہ ہزار ایک سو اسی روپے ہے۔

ریاست نے یہ سروے پٹنہ کے ایشین ڈولپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا ’آدری‘ کی مدد سے کیا ہے۔ آدری کے سکریٹری شیوال گپتا کے مطابق مرکزی حکومت کی نوکری کرنے والے ملازمین کی تنخواہ بھی بہار کے ملازمین سے کم ہے۔ مسٹر گپتا کا کہنا ہے کہ ’مرکزی حکومت کے ملازمین کی اوسط ماہانہ تنخواہ دس ہزار ایک سو چار روپے ہے۔‘

ریاست میں فی الوقت سرکاری ملازمین کی تعداد چار لاکھ پینیتس ہزار ہے حالانکہ حکومت کے مطابق اب بھی سوا لاکھ سے زائد عہدے خالی پڑے ہیں۔

ریاست کے ملازمین کی تنخواہ بھلے ہی ملک بھر میں سب سے زیادہ ہو لیکن عام بہاریوں کی حالت اب بھی ابتر ہے۔ سروے کے مطابق کم آمدنی اور زیادہ خرچ کی وجہ سے ریاست سینتالیس ہزار کروڑ روپے کی قرضدار ہے۔ اس طرح بہار کا ہر شخص قریب سوا پانچ ہزار روپے کا مقروض ہے۔

سروے پر ملازمین کا موقف
 جس ریاست میں تنخواہ پانےکے لیے سپریم کورٹ کی مدد لینی پڑتی ہو وہاں کی حکومت کا یہ دعوی کہ ملازمین کو سب سے زیادہ تنخواہ یہاں دی جاتی ہے مضحکہ خیز ہے۔
پبلک سیکٹرز یونین ورکز کے جنرل سیکریٹری اشونی کمار
ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اور وزیرخزانہ سشیل کمار مودی کے مطابق ریاست میں فی کس آمدنی پورے ملک میں سب سے کم ہے۔ سروے کے مطابق پٹنہ ضلع میں فی کس آمدنی چھ ہزار روپے ماہانہ ہے تو شیوہر جیسے چھوٹے ضلع میں یہ محض دو ہزار روپے ہے۔ اسی طرح انسانی ترقی کے پیمانے پر بھی بہار سب سے پیچھے ہے۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس اقتصادی سروے کو ریاست کی تاریخ کا اہم کام بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سروے ہر سال تیار کیا جائےگا۔

تنخواہ کے بارے میں حکومت کے اس دعوے کو ملازمین یونین کے عہدیدار حقیقت پر مبنی نہیں مانتے ہیں۔

ریاستی پبلک سیکٹرز یونین ورکز کے جنرل سیکریٹری اشونی کمار کہتے ہیں: ’جس ریاست میں تنخواہ پانےکے لیے سپریم کورٹ کی مدد لینی پڑتی ہو وہاں کی حکومت کا یہ دعوی کہ ملازمین کو سب سے زیادہ تنخواہ یہاں دی جاتی ہے مضحکہ خیز ہے۔‘

مسٹر کمار کہتے ہیں: ’ریاست کے 28 کارپوریشن کے ملازمین کو گزشتہ پندرہ برسوں سے وہ تنخواہ بھی نہیں مل رہی ہے جوبقول ان کے سب سے کم ہے۔‘

’بہار نان گیزیٹڈ اسٹاف یونین‘ سنگرش دوت کے جنرل سیکریٹری کرشنندن شرما کا کہنا ہے: ’حکومت بڑی چالاکی سے صرف بیسِک تنخواہ اور مہنگائی بھتہ کا حساب کرکے یہ بتا رہی ہے کہ وہ اپنےملازمین کو سب سے زیادہ تنخواہ دے رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دیگر سہولیات کے لحاظ سے پنجاب، ہریانہ اور مرکز کے ملازمین سے بہار کے ملازمین کافی پیچھے ہیں۔‘

مسٹر شرما کا کہنا ہے: ’حکومت یہ نہيں بتا رہی ہے کہ طبی الاؤنس، سالانہ تفریحی الاؤنس اور دیگر الاؤنسز دینے میں وہ کتنی پیچھے ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ حکومت دراصل اس اعلان سے یہ چاہتی ہے کہ ملازمین کوئی تحریک نہ چلائیں۔

کھیتوں میں پیپسی
کوک پیپسی کا استعمال بطور جراثیم کش دوا
 بہاری مزدورباہر والے بہاری
بہار سے باہر کے 55لاکھ بہاریوں پرسیاست
کھادیتحریک آزادی کی یاد
بہار: کھادی کی صنعت بچانے کی کوششیں
انیتا کشواہابہار کی سٹار گرل
18 سالہ انیتا کے لیے یونیسف کا اعزاز
سیپ کا سامانمہسی کی سِیپ
’برسوں پرانی صنعت سے ہزاروں کا روزگار وابستہ‘
نتیش کی مشکل
کوٹہ پر بہار کے وزیراعلیٰ کی مشکل
برونی میں فٹبال کی کھلاڑیسوتے جاگتے فٹبال
ہندوستانی ریاست بہار کی فٹبال دیوانی لڑکیاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد