بہار: تنخواہیں سب سے زیادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کی حکومت کے مطابق ریاست کے سرکاری ملازمین کی اوسط تنخواہ پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ ریاستی حکومت کے اقتصادی سروے کے مطابق بہار کے سرکاری ملازم کی اوسط ماہانہ تنخواہ چودہ ہزار نو سو نواسی روپے ہے جبکہ پنجاب جیسی ترقی یافتہ ریاست میں یہ تنخواہ بارہ ہزار ایک سو اسی روپے ہے۔ ریاست نے یہ سروے پٹنہ کے ایشین ڈولپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا ’آدری‘ کی مدد سے کیا ہے۔ آدری کے سکریٹری شیوال گپتا کے مطابق مرکزی حکومت کی نوکری کرنے والے ملازمین کی تنخواہ بھی بہار کے ملازمین سے کم ہے۔ مسٹر گپتا کا کہنا ہے کہ ’مرکزی حکومت کے ملازمین کی اوسط ماہانہ تنخواہ دس ہزار ایک سو چار روپے ہے۔‘ ریاست میں فی الوقت سرکاری ملازمین کی تعداد چار لاکھ پینیتس ہزار ہے حالانکہ حکومت کے مطابق اب بھی سوا لاکھ سے زائد عہدے خالی پڑے ہیں۔ ریاست کے ملازمین کی تنخواہ بھلے ہی ملک بھر میں سب سے زیادہ ہو لیکن عام بہاریوں کی حالت اب بھی ابتر ہے۔ سروے کے مطابق کم آمدنی اور زیادہ خرچ کی وجہ سے ریاست سینتالیس ہزار کروڑ روپے کی قرضدار ہے۔ اس طرح بہار کا ہر شخص قریب سوا پانچ ہزار روپے کا مقروض ہے۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس اقتصادی سروے کو ریاست کی تاریخ کا اہم کام بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سروے ہر سال تیار کیا جائےگا۔ تنخواہ کے بارے میں حکومت کے اس دعوے کو ملازمین یونین کے عہدیدار حقیقت پر مبنی نہیں مانتے ہیں۔ ریاستی پبلک سیکٹرز یونین ورکز کے جنرل سیکریٹری اشونی کمار کہتے ہیں: ’جس ریاست میں تنخواہ پانےکے لیے سپریم کورٹ کی مدد لینی پڑتی ہو وہاں کی حکومت کا یہ دعوی کہ ملازمین کو سب سے زیادہ تنخواہ یہاں دی جاتی ہے مضحکہ خیز ہے۔‘ مسٹر کمار کہتے ہیں: ’ریاست کے 28 کارپوریشن کے ملازمین کو گزشتہ پندرہ برسوں سے وہ تنخواہ بھی نہیں مل رہی ہے جوبقول ان کے سب سے کم ہے۔‘ ’بہار نان گیزیٹڈ اسٹاف یونین‘ سنگرش دوت کے جنرل سیکریٹری کرشنندن شرما کا کہنا ہے: ’حکومت بڑی چالاکی سے صرف بیسِک تنخواہ اور مہنگائی بھتہ کا حساب کرکے یہ بتا رہی ہے کہ وہ اپنےملازمین کو سب سے زیادہ تنخواہ دے رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دیگر سہولیات کے لحاظ سے پنجاب، ہریانہ اور مرکز کے ملازمین سے بہار کے ملازمین کافی پیچھے ہیں۔‘ مسٹر شرما کا کہنا ہے: ’حکومت یہ نہيں بتا رہی ہے کہ طبی الاؤنس، سالانہ تفریحی الاؤنس اور دیگر الاؤنسز دینے میں وہ کتنی پیچھے ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ حکومت دراصل اس اعلان سے یہ چاہتی ہے کہ ملازمین کوئی تحریک نہ چلائیں۔ |
اسی بارے میں بہار پنچایتی انتخابات: ایک خاموش انقلاب07 May, 2006 | انڈیا بہار نجکاری کے راستے پر01 June, 2006 | انڈیا آسامیاں 2 لاکھ : درخواستیں1 کروڑ 07 September, 2006 | انڈیا ’سرمایہ کاری کے لیئے ہرممکن اقدام‘27 September, 2006 | انڈیا لالو، رابڑی جائیداد مقدمہ سے بری 18 December, 2006 | انڈیا بہار: ڈاک خانوں میں چائے اور کنڈوم01 April, 2006 | انڈیا یونیسف کا پوسٹر تنازعے کا شکار24 November, 2006 | انڈیا بہار: تفریح کے ذریعے ٹیکس اصولی09 November, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||