BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 September, 2006, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسامیاں 2 لاکھ : درخواستیں1 کروڑ

بہار کا ایک سکول
تقریباً سوا دو لاکھ اسامیوں کے لیۓ بہار کے محکمہ تعلیم کو ایک کروڑ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
نوکری کے لیۓ درخواستوں کی تعداد کے عالمی ریکارڈ کا تو ہمیں علم نہیں لیکن بہار میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سکول اساتذہ کے لیۓ موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد کسی بھی ریکارڈ کو توڑنے کے لیۓ کافی معلوم ہوتی ہے۔

تقریباً سوا دو لاکھ اسامیوں کے لیۓ بہار کے محکمہ تعلیم کو ایک کروڑ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ریاستی سیکریٹری تعلیم مدن موہن جھا کے مطابق صرف پٹنہ ضلع میں دس لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

ان درخواستوں کی بڑی تعداد بہار کے علاوہ جھارکھنڈ اور مشرقی یو پی سے موصول ہوئی ہے اور ملک بھر میں پھیلے بہار کے باشندوں کی بڑی تعداد نے بھی درخواستیں بھیجیں ہیں۔

ایک کروڑ درخواستوں کی گنتی سن کر یہ مان لینا درست نہ ہوگا کہ درخواست دہندگان کی تعداد بھی اتنی بڑی ہے۔ بلکہ درخواستوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ بے روزگاری سے زیادہ یہ ہے کہ کئی درخواست دہندگان نے متعدد جگہوں سے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔حکومت نے اس سلسلے میں کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی۔ہیں۔

 سرکار نے اُساتذہ کے عہدوں پر تقرری کے لیۓ تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ لوگوں سے ایک ساتھ ہی درخواستیں طلب کی تھیں۔

سرکار نے اُساتذہ کے عہدوں پر تقرری کے لیۓ تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ لوگوں سے ایک ساتھ ہی درخواستیں طلب کی تھیں۔

سرکاری اساتذہ کی نوکری کے لیۓ درخواستوں کی تعداد کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ نوکری کانٹریکٹ پر مل رہی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ تنخواہ سات ہزار روپے ہے۔یہ تنخواہ پکی سرکاری نوکری کی تنخواہ سے آدھی ہے۔

استاتذہ کے عہدوں پرگذشتہ کئی برسوں سے بھرتی نہ ہونے کے سبب ریاست میں بی ایڈ کرنے والے عمر رسیدہ درخواست دہندگان کی تعداد بھی کافی ہے۔

ریاست میں گذشتہ پندرہ برسوں سے سکولوں میں اساتذہ کی تقرری کا عمل رکا ہوا تھا۔ اسی وجہ سے ریاست کے مختلف ٹیچرز ٹریننگ کالجز سے سند یافتہ ہزاروں افراد بے روزگار ہیں۔

لالو پرساد کی آر جےڈی حکومت کے پندرہ سالہ دورِ اقتدار کے آخر میں کالجوں کے اساتذہ کی تقرری تو ہوئی تھی لیکن پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں میں یہ عمل تقریباً منجمد رہا تھا ۔

آسامیوں کے لیے بھیجی جانے والی درخواستوں کے باعث بہار میں ڈاک ٹکٹوں کی قلت ہو گئ

آر جے ڈی حکومت کے دور میں صرف پرائمری سکولوں کے لیۓ پندرہ سو روپۓ کی تنخواہ اور نو ماہ کے کانٹریکٹ پر ’شکچھا متر یا تعلیم دوست’ بحال کیۓ گۓ تھے۔

سابقہ حکومت نے سکولوں میں اساتذہ کی باضابطہ تقرری کے لیۓ اشتہار تو شائع کیا تھا مگر وہ عمل عدالتی جھگڑوں کی نظر ہو گیا تھا۔

گذشتہ حکومت نے یہ پالیسی اختیار کی تھی کہ وہ ٹیچر ٹریننگ کالجز سے سند یافتہ اور غیر سند یافتہ کو یکساں موقع دے گی۔ اس فیصلے کے خلاف سند یافتہ افراد نے عدالت سے رجوع کیا اور نتیجے میں پورا عمل ہی معطل ہو کر رہ گیا تھا۔

نتیش کمار کی حکومت نے یہ یقین دہانی کراتے ہوئے کہ وہ پہلے سند یافتہ افراد کو نوکری دیگی اساتذہ کی تعیناتی کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

 ریاست کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی ’سینٹ’ اور ’کانونٹ’ نام والے اسکول مل جاتے ہیں۔

موجودہ حکومت نے جب سارے اضلاع سے سکولوں میں آسامیوں کے اعداد شمار اکٹھے کیۓ تو انکی تعداد دو لاکھ سے اُوپر نکلی۔

ٹیچرز کی کمی کی بنا پر بہار میں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار اس قدر گر گیا ہے کہ ذرا بہتر معاشی حالت والے خاندانوں نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ دلانا شروع کر دیا ہے۔ریاست کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی ’سینٹ’ اور ’کانونٹ’ نام والے اسکول مل جاتے ہیں۔

موجودہ حکومت کی آسامیاں شائع ہونے کے بعد ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ ہزار - دو ہزار روپے کی تنخواہ پر ٹیچر رکھنے والے پرائویٹ سکولوں کو اُستاتذہ ملنا مشکل ہو رہے ہیں۔

درخواستوں کی اتنی بڑی تعداد سے محکمہء تعلیم کے اہل کاروں کو تو پریشانی ہو رہی ہے لیکن عام طور پر تجارتی لحاظ سے مایوسی کا شکار رہنے والے محکمہء ڈاک کے اہل کار کافی خوش ہیں۔

بہار سرکار کے پوسٹ ماسٹر جنرل کملیشور پرساد کے مطابق اساتذہ کی نوکریوں کے لیے ارسال کی جانے والی درخواستوں کے لیے بیس کروڑ روپے کے ڈاک ٹکٹ خریدے گئے ہیں۔ جبکہ ریاستی حکومت نے ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کی شکایت کے بعد جوابی پوسٹ کے لیۓ ٹکٹ چسپاں کرنے کی شرط درمیان میں ہی ہٹا لی تھی۔

اسی بارے میں
بہار کا معذور گاؤں
09 December, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد